شدت پسند کمزور ضرور مگر بدستور موجود

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر جمعہ کو ہونے والا طالبان حملہ نو ماہ پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے ہی کی طرح ایک منظم حملہ تھا۔
اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ فوجی آپریشنوں کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ بدستور ملک کے کسی بھی حساس مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آرمی پبلک سکول اور حالیہ دونوں حملوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں واقعات میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک ہی طرح کا طریقہ کار استعمال کیا گیا۔
سکول حملے میں چھ خودکش حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہوکر بچوں اور اساتذہ کو ہلاک کیا اور جمعے کو بھی 14 شدت پسندوں نے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں حملے انتہائی حساس مقامات پر کیےگئے جہاں جانے کےلیے کئی سکیورٹی چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینیئر تجزیہ کار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک سکول کی طرح ایک اور حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن شاید پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ شہروں میں شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ بدستور فعال ہے چاہے وہ خیبر پختونخوا اور پنچاب میں ہوں یا ملک کے دیگر حصوں میں۔
ان کے مطابق اس واقع میں کسی حد تک پولیس اور دیگر اداروں کی ناکامی بھی نظر آتی ہے کیونکہ ایک درجن سے زیادہ دہشت گرد کیسے اتنے اہم اور حساس علاقے میں داخل ہوئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کانوں کان خِبر نہیں ہوئی۔
ڈاکٹر خادم حسین کے بقول مرکز اور صوبوں کو مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس کی ذمہ داری لینے ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں پھر سے ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
پشاور شہر اور اطراف کے علاقوں میں گذشتہ چند ماہ سے سکیورٹی کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی تھی اور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد شہر میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات تقریباً ختم ہو کر رہ گئے تھے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پشاور کے قریب واقع قبائلی علاقے خیبر ایجنسی باڑہ میں کامیاب فوجی کارروائیوں کے بعد عسکریت پسندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے تاہم حالیہ واقعہ سے ایک بار پھر کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان میں جب بھی کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو اس کا الزام دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے پر لگاتے رہے ہیں جس سے حالات بہتر ہونے کی بجائے بظاہر پیچیدگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
پشاور میں فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والے حملے کے بارے میں فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور دہشت گرد بھی وہاں سے آئے تھے جبکہ انھیں کنٹرول کرنے والے بھی سرحد پار بیٹھے ہوئے تھے۔
اس سے پہلے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے بارے میں بھی کہا گیا تھا کہ ان کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور ان کے حملہ آور بھی وہاں سے آئے تھے۔
اس طرح کچھ عرصہ قبل کابل میں ہونے والے شدت پسند حملوں کا الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بھی خاصے کشیدہ ہوگئے تھے جو بدستور پوری طرح بحال نہیں ہو سکے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان الزام تراشیوں سے نقصان ہی نقصان ہو رہا ہے جبکہ اس کا فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر خادم حسین نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا پائیدار حل نکالنا ہوگا ورنہ یہ واقعات ہوتے رہیں گے۔







