’حملہ آوروں نے نمازیوں پر دستی بم پھینکے‘

سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری پہنچنے کے بعد آپریشن کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری پہنچنے کے بعد آپریشن کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے شہر پشاور کے نواح میں واقع پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر شدت پسندوں نے جمعے کو علی الصبح اس وقت حملہ کیا جب لوگ نمازِ فجر کے لیے تیاری کر رہے تھے۔

حملے کے ایک عینی شاہد کے مطابق جب فائرنگ شروع ہوئی تو کیمپ کے قریب موجود لوگ ڈر کر واپس اپنے گھروں میں گھس گئے۔

یار محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح چھ بج کر 22 منٹ پر جب وہ سو کے اٹھے تو دھماکوں کی آوازیں سننے کے بعد گھر سے باہر نکلے ۔

’شدید فائرنگ ہو رہی تھی اور شور بھی بہت تھا۔فائرنگ کے بعد جو لوگ گھروں سے باہر تھے وہ اپنے گھروں میں گھس گئے۔ ڈر کے مارے کوئی باہر نہیں نکلا اور باہر صرف پولیس ہی کھڑی تھی۔ سڑک پوری طرح پولیس اہلکاروں کے کنٹرول میں تھی۔‘

انھوں نے بتایا کلہ وہ بھی ڈر کے مارے واپس اپنے مکان کے اندر چلے گئے۔ اس کے بعد تقریباً نو بجے تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہی۔ اس دوران انھیں لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال لیجانے کے بعد معلومات ملتی رہیں۔‘

یار محمد کے مطابق کیمپ کے ایک مورچے میں موجود اہلکاروں نے بغیر کسی حکم کے شدت پسندوں پر فائرنگ کی اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو کافی نقصان پہنچتا۔

اس علاقے میں پہلے بھی شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس علاقے میں پہلے بھی شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں

ایک اور عینی شاہد نسیم نے بتایا کہ صبح آذان کے وقت فائرنگ شروع ہوئی توگھر سے باہر نکلے تو کیمپ کے گیٹ کے ساتھ آگ لگی ہوئی تھی اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

نسیم کے مطابق انھوں نے پانچ سے چھ دھماکوں کی آواز سنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو نہیں دیکھا لیکن کیمپ سے لاشوں کو لے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

کیمپ پر حملے کے وقت وہاں موجود ایک پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے کیمپ میں داخل ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے کیمپ میں داخل ہونے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بکتر بند گاڑی اندر داخل ہوئی اور اس کے ساتھ دیگر اہلکاروں کے ساتھ وہ بھی اندر داخل ہوئے۔

پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کی شرط پر بتایا کہ دہشت گردوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی جس میں انھوں نے بھی پچاس سے زیادہ راؤنڈ چلائے۔

فضائیہ کے اس کیمپ میں رہائش گاہیں اور دفاتر ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفضائیہ کے اس کیمپ میں رہائش گاہیں اور دفاتر ہیں

اہلکار کے مطابق انھوں نے وہاں ایک دہشت گرد کی لاش دیکھی جو بالکل جھلس چکی تھی۔ اس کے علاوہ کئی افراد زخمی حالت میں وہاں گرے ہوئے تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق کچھ دیر بعد سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری پہنچ گئی تو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مکمل کنٹرول فوج نے سنبھال لیا جبکہ پولیس اہلکار باہر موجود رہے۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور تین اطراف سے کیمپ میں داخل ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے دہشت گردوں کے ایک گروپ نے انقلاب روڈ پر کیمپ کے داخلی گیٹ پر دھماکے کیے اور اسی دوران کیمپ میں موجود سکیورٹی اہلکار جب گیٹ کی طرف پہنچے تو حملہ آور نے دھماکے سے کیمپ کی عقبی دیوار کو توڑا اور وہاں سے اندر داخل ہو گئے۔

فوج کے اہلکاروں نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جبکہ پولیس کیمپ کے باہر موجود رہی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفوج کے اہلکاروں نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جبکہ پولیس کیمپ کے باہر موجود رہی

انھوں نے کہا کہ عقبی جانب مسجد میں اس وقت نمازی موجود تھے اور دہشت گردوں نے پہلے انھیں ہدف بنایا جس میں دستی بم استعمال کیے۔

’اس دوران وہاں کیمپ کے میس میں گئے لیکن وہاں اس وقت کوئی موجود نہیں تھا۔ میس کے قریب ہی سکیورٹی فورسز نے انھیں گھیرے میں لیا اور یہاں دہشتگردوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔‘

میس کے قریب جھڑپ کے وقت کیمپ میں سکیورٹی فورسز کی مزید نفری اور کمانڈوز بھی پہنچ گئے۔

پولیس اہلکار کے مطابق کیمپ میں ایئرفورس کے اہلکاروں کی رہائش گاہیں اور دفاتر ہیں۔