’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ پاکستان کے ساتھ ہے‘

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں بہت نقصان ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمارک ٹونر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں بہت نقصان ہوا ہے

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز بڈھ بیر میں پاکستان فضائیہ کے کیمپ پر حملہ کرنے والوں کا مقصد پاکستانی فوج کے خاندان والوں کو نشانہ بنانا تھا جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک نیوز بریفینگ میں کہا کہ ’امریکہ اس حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور متاثرین کے خاندان والوں کو تعزیت پیش کرتا ہے۔‘

<link type="page"><caption> ’حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنا اور وہیں سے کنٹرول ہوا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150918_ispr_bajwa_presser_badhbir_attack_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں بہت نقصان ہوا ہے اور امریکہ پاکستان کے عوام اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ’جتنا نقصان پاکستان کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں ہوا ہے اتنا کسی اور ملک کو نہیں ہوا۔‘

’پاکستان فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والا حملہ ہولناک ہے اور قابل مذمت بھی ہے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ واقعہ نیا نہیں ہے۔‘

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ایسے پاکستانی عوام کی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ایسے پاکستانی عوام کی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا حصہ ہے

ان کا کہنا اتھا کہ ’ہم شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کی مسلسل جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ حملہ اس قسم کی کارروائیوں میں اضافہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسے پاکستانی عوام کی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔

دوسری جانب پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا ہے کہ محمکہ انسداد دہشت گردی نے نامعلوم افراد کے خلاف پاکستان فضائیہ کی مدعیت میں اس حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بڈھ بیر اور پشاور کے مضافاتی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی جانب سے سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور کے قریب بڈھ بیر میں قائم فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور دہشت گرد بھی وہیں سے آئے تھے۔

جمعے کی صبح پیش آنے والے اس واقعے میں 13 حملہ آوروں سمیت کل 43 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عاصم باجوہ نے کہا کہ ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور جاری رہے گا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعاصم باجوہ نے کہا کہ ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور جاری رہے گا

کارروائی کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد جمعے کی شام ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی کو بھی افغانستان سے ہی کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

انھوں نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کے دوران پاکستانی فضائیہ کے 23 اور برّی فوج کے تین اہلکاروں کے علاوہ فضائیہ کے چار شہری ملازمین بھی ہلاک ہوئے۔

میجر جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران خفیہ اداروں نے حملہ آوروں کی جو گفتگو سنی اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروہ سے تھا اور یہ تمام افغانستان سے آئے تھے۔

حملہ آوروں کی تعداد کے حوالے سے ٹی ٹی پی کی طرف سے کیے گئے دعویٰ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جتنے بھی دہشت گرد کیمپ میں داخل ہوئے انھیں ہلاک کر دیا گیا اور ان کی لاشیں وہاں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ حملہ آوروں ملیشیا وردیوں میں ملبوس تھے اور ان کے پاس راکٹ لانچر بھی تھے۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس حملہ آور دو مقامات سے کیمپ میں داخل ہوئے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس حملہ آور دو مقامات سے کیمپ میں داخل ہوئے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئے

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں عاصم باجوہ کے مطابق سریع الحرکت فورس کے علاوہ لائٹ کمانڈوز اور سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا اور بہت جلد دہشت گرد کا محاصرہ کر کے ان کے نہ صرف فرار کے راستے مسدود کر دیے بلکہ انھیں ہلاک کر دیا۔

افغانستان کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ افغانستان میں اگر پٹاخہ بھی پھٹتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ افغانستان کی ریاست اس واقعے میں ملوث ہو سکتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں حکومت کی عملداری نہیں ہے۔