سیٹ چھوڑنا آسان تو نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پہلے سعد رفیق، پھر ایاز صادق، اب صدیق بلوچ اور آئندہ شاید خواجہ محمد آصف۔ جب چار میں سے تین آؤٹ ہوجائیں تو چوتھی وکٹ کی طلب پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
عمران خان کی انتخابی احتجاجی کہانی بھی انہی چار نشستوں کے نتائج کھولنے کی ’معصوم‘ سی فرمائش سے شروع ہوئی تھی جو بڑھتے بڑھتے 30 نشستوں کے نتائج پر شکوک و شبہات تک جا پہنچی۔
اِن 30 میں سے اب تک 22 نشتوں کی انتخابی عذرداریاں نمٹائی جا چکی ہیں اور صرف آٹھ کی زیرِ التوا ہیں جن میں حلقہ این اے 110 سے جیتنے والے خواجہ آصف کی ممکنہ ’پرائزڈ‘ وکٹ بھی شامل ہے۔
یہ بات درست ہے کہ اب تک چار میں سے جن تین فرمائشی نشستوں کی انتخابی چھان بین پایۂ تکمیل تک پہنچی ان فیصلوں میں ناقص انتخابی نتائج کا موردِ الزام کسی منظم دھاندلی کے بجائے الیکشن مشینری کی پیشہ ورانہ نااہلی کو ٹھہرایا گیا۔
مگر الیکشن ٹریبونل کے فیصلوں پر مسلم لیگ ن کی جانب سے جس طرح کا ردِ عمل آ رہا ہے اس سے تاثر یہ بن رہا ہے کہ ناقص الیکشن مشینری کو لمحۂ فکریہ تصور کرنے کے بجائے ن لیگ اسے خود پر ذاتی سیاسی حملہ تصور کر رہی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ن لیگ الیکشن کمیشن کی ’نااہلی‘ کے سبب گرنے والے فیصلہ جاتی ملبے پر کپڑا رکھنے کے بجائے یہ کہتی کہ حلقہ این اے 125، این اے 122 اور این اے 154 میں جو کچھ بھی ہوا اس کے ذمہ دار انتخابی اہلکار ہوں تو ہوں مگر ہم ٹریبیونل کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ عدالتوں میں گھسیٹنے کے بجائے ان حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر ثابت کریں گے کہ مسلم لیگ ن کی حلقہ وار عوامی حمایت جوں کی توں اور اصلی باتصویر ہے۔
لیکن ن لیگ نے اپنے مخالف فیصلوں کو سیاسی قد بڑھانے کے لیے بطور سنہری موقع استعمال کرنے کے بجائے فیصلہ کرنے والے ججوں کو کوستے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل کا جو فیصلہ کیا۔ وہ قانونی لحاظ سے تو درست راستہ ہوسکتا ہے مگر سیاسی لحاظ سے شاید اتنا صائب نہ ہو۔
گذشتہ ماہ دھاندلی کی جانچ کے لیے تحریکِ انصاف کی احتجاجی فرمائش پر بننے والے کمیشن کا فیصلہ جس فراغ دلی اور خوشی کے ساتھ مسلم لیگ ن نے تسلیم کیا مگر اپنے تین ارکانِ اسمبلی کی نا اہلی کے فیصلوں پر جس مایوسی کا اظہار کیا اس سے یہ بات پھر سے ثابت ہوگئی کہ اس پاکستان میں بلا امتیازِ جماعت و نظریہ صرف وہی فیصلہ حق و انصاف کی فتح ہوتا ہے جو میرے حق میں ہو جبکہ میرے خلاف ہونے والا کوئی بھی فیصلہ تعصب، بد نیتی اور انصاف کی پامالی کے برابر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
ہو سکتا ہے این اے 125 سے ڈی سیٹ ہونے والے خواجہ سعد رفیق، این اے 122 سے ڈی سیٹ ہونے والے ایاز صادق اور این اے 154 سے ڈی سیٹ ہونے والے صدیق بلوچ حکمِ امتناعی کی سیڑھی کے ذریعے کچھ دن اور اپنی نشستیں برقرار رکھ لیں لیکن عوامی عدالتوں سے خود کو منوانے کے عادی منجھے ہوئے سیاسی لوگ بھی بلآخر حکمِ امتناعی جیسی بیساکھیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوجائیں تو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ انھیں اپنے سیاسی قد پر کس قدر اعتماد اور ناز ہے۔
اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی ٹریبیونل کے فیصلوں کے بعد اپنی سیٹ سے اوپر کی عدالت میں جائے بغیر الگ ہوجاتا اور پھر ضمنی انتخاب میں دوبارہ جیت جاتا تو اس کی ذات اور اس کی جماعت کو کیسی زبردست اخلاقی و سیاسی’ریٹنگ‘ ملتی۔
مگر جس سماج میں ایک فٹ زمین چھوڑتے ہوئے بھی دل بیٹھ جاتا ہو وہاں پوری سیٹ چھوڑنے کے لیے بہت زیادہ سیاسی و اخلاقی ظرف چاہیے پر جنھیں آنے والے کل سے زیادہ آج پر اعتماد ہو ان سے ایسی مثالی توقعات وابستہ کر کے مزید اخلاقی آزمائش میں ڈالنا بھی زیادتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گالم گلوچ اور کوسنے دیتے ہوئے عدالتی اپیلیں کرتے کرتے اور ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ہی آج کے پاکستان کی سیاسی حقیقت ہے۔
ایسے ماحول میں 2018 کے انتخابات ( اگر ہوئے ) کے لیے ایک پیشہ ورانہ شفاف جدید انتخابی مشینری کی بروقت تعمیر تمام سیاست دانوں کے لیے کتنا آسان چیلنج ہو گا؟
اس دوران سپریم کورٹ اس جملے کے استعمال پر تو پابندی لگوا ہی سکتی ہے کہ ’ہم عدالتی فیصلے کو مانتے ہیں۔‘
پاکستانی سیاست کے تناظر میں اس جملے کا عملی مطلب یہ ہے کہ ہم چاہیں تو نہ بھی مانیں۔







