’ہمارے دھرنے ٹھیک تھے،احتساب کےبغیر ضمنی انتخاب نہ کرائیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے لاہور کے حلقہ 125 میں دوبارہ انتخابات کرانے کے فیصلے پر کہا ہے’کہ ثابت ہو گیا ہے کہ ان کی جماعت کے دھرنے ٹھیک تھے۔‘
الیکشن ٹریبیونل فیصلے کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ 2015 انتخابات کا سال ہوگا۔
پیر کے روز الیکشن ٹریبیونل نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 125 میں دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا ہے اور حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا ہے۔
سنہ 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے تھے۔ سعد رفیق اس وقت وزرات ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں۔
تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا 2013 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کی تحقیق کے لیے قائم جوڈیشیل کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ریٹرنگ افسران اور پریذائیڈنگ افسران کو طلب کرکے ان سے پوچھیں کہ انھوں نے کس کے کہنے پر دھاندلی کروائی تھی۔
عمران خان نےمطالبہ کیا کہ’جوڈیشیل کمیشن آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی مدد سے پتہ چلائے کہ کس طرح دھاندلی ہوئی ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ کسی حلقے میں اس وقت تک ضمنی انتخابات نہ کرائے جائیں جب تک دھاندلی والوں کا احتساب نہیں کیا جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے صرف چار حلقے مانگے تھے کہ اور جب ایک سال تک سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت کسی ادارے سے انصاف نہ ملا تو انھیں سڑکوں پر آنا پڑا۔انھوں نے کہا خواجہ سعد رفیق ایوان ااور کابینہ میں اجنبی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ’ایاز صادق بھی دو سال سے ایک متنازعہ انتخاب کی وجہ سے سپیکر بنے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر این اے 125 سے تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان نے کہا کہ ٹریبونل کے سامنے دھاندلی کے ثبوت پیش کیےگئے ہیں تو انتخاب کو کالعدم قرار دیاگیا۔ باقی تین حلقوں میں بھی فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آئے گا۔







