این اے 154 کا الیکشن بھی کالعدم، دوبارہ انتخاب کا حکم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عدیل اکرم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں قائم الیکشن ٹریبیونل نے مبینہ دھاندلی کیس میں لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اس حلقے سے مئی 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں آزاد امیدوار محمد صدیق خان بلوچ نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین کو شکست دی تھی۔
صدیق خان بلوچ نے الیکشن جیتنے کے بعد مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
تاہم جہانگیر ترین نے الیکشن ٹربیونل میں اس نتیجے کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کر رکھی تھی جس میں صدیق بلوچ پر جعلی ڈگری اور پولنگ کے دوران دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا۔
اکتوبر 2014 میں نادرا نے حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کے حوالے سے 700 صفحات پر مشتمل رپورٹ ٹربیونل میں جمع کروائی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی کاؤنٹر فائل پر یا تو شناختی کارڈ نمبر نہیں تھے یا غلط نمبردرج تھے۔
الیکشن ٹربیونل کے جج رانا زاہد محمود نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 20 اگست کو انتخابی عذرداری پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
الیکشن ٹربیونل کی جانب سے انتخابی عذرداری پر سماعت دو سال سے زائد عرصہ تک جاری رہی جس کے بعد بدھ کو ٹربیونل نے مختصر فیصلہ میں حلقے این اے 154 کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیصلہ کے موقع پر جہانگیر ترین اور صدیق بلوچ کے بیٹے الیکشن ٹربیونل کے دفتر میں موجود تھے۔
فیصلہ سنانے کے موقع پر صبح سے ہی الیکشن ٹربیونل کے دفتر کے باہر مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود رہی جنہوں نے ہاتھوں میں کتبے اُٹھا رکھے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اِس سے پہلے الیکشن ٹربیونل نے لاہور کے حلقہ این اے 125 سے مسلم لیگ نون کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور این اے 122 سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا۔
خواجہ سعد رفیق نے ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے جبکہ سردار ایاز صادق نے بھی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔







