ایاز صادق کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری

ایاز صادق
،تصویر کا کیپشناس نوٹیفیکیشن کے مطابق ایاز صادق کی اسمبلی رکنییت ختم کر دی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن پاکستان نے ان کی رکنیت کی منسوخی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

پیر کو جاری ہونے والے اس نوٹیفیکیشن کے مطابق ایاز صادق کی اسمبلی رکنیت ختم کر دی گئی ہے اور حلقہ این اے 122 کی نشسست کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو لاہور میں قائم الیکشن ٹریبیونل نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقہ این اے 122 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ مئی 2013 میں ہونے والے انتخابات میں اس حلقے میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شکست دی تھی۔

تاہم عمران خان نے الیکشن ٹریبیونل میں اس نتیجے کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حلقہ این اے 122 میں انتخابات کے دوران دھاندلی ہوئی ہے لہٰذا سردار ایاز صادق کو نااہل قرار دیا جائے۔

الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے انتخابی عذرداری پر سماعت دو سال تک جاری رہی تھی جس کے بعد سنیچر کو مختصر فیصلے میں ٹریبیونل نے این اے 122 اور اس کے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 147 میں انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا۔

پی پی 147 سے بھی مسلم لیگ نواز کے ہی امیدوار شجاع صدیقی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔

فیصلہ سنانے کے موقعے پر پنجاب الیکشن کمیشن کے دفتر کی حدود میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاہم جب پاکستان تحریک انصاف اور حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے حامیوں کی بڑی تعداد وہاں قائم کردہ رکاوٹیں عبور کر کے اندر پہنچ گئی تو حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کرنی پڑی۔

اس فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل انیس ہاشمی کا کہنا تھا مختصر فیصلے میں ان کے موکل کے موقف کی تائید ہوئی ہے اور الیکشن ٹریبیونل نے ایاز صادق کو ڈی سیٹ کر دیا ہے جس کے بعد وہ اب ایوانِ زیریں کے سپیکر نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد ایاز صادق کی جانب سے بطور سپیکر گذشتہ دو برس کے دوران دی جانے والی رولنگز پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اس موقعے پر ایاز صادق کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایاز صادق کی رکنیت کالعدم قرار دیے جانے کی وجہ الیکشن کمیشن کے حکام کی بے ضابطگیاں قرار دیا گیا ہے اور عمران خان کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہو سکا کہ نتائج میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

عمران خان نے الیکشن ٹریبیونل میں اس نتیجے کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے الیکشن ٹریبیونل میں اس نتیجے کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کی تھی

فیصلے کے بعد ایاز صادق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کی جو نقل مجھے ملی ہے اس میں کہیں بھی دھاندلی کا ذکر نہیں کیا گیا اور اس میں نہ تو ذمہ داری مجھ پہ ڈالی گئی ہے نہ ہی عمران خان پر بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ الیکشن مشینری اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔‘

ایاز صادق نے کہا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور تسلیم بھی کرتے ہیں لیکن جو تحفظات ہیں ان کی وجہ سے وہ سپریم کورٹ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے اس فیصلے کے بعد پارٹی کا لائحہ عمل جاننے کے لیے رابطہ کیا تھا جس کا جواب انھیں یہ ملا ہے کہ ’ہم اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جا کر الیکشن مشینری کی ذمہ داری جو اس الیکشن کے نتیجے پر ڈالی گئی ہے اسے چیلنج کریں گے۔‘

عمران خان کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہار جیت تو نہیں ہوئی۔ میں صرف یہ بات کروں گا کہ یہ تکنیکی مسئلہ ہے، سیاسی مسئلہ نہیں رہا۔‘

کب کیا ہوا

  • لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نومبر 2013 میں ایاز صادق کے حق میں حکمِ امتناعی جاری کیے جانے کے بعد عمران خان کی اس پٹیشن پر کارروائی ایک سال تک معطل رہی۔
  • ہائی کورٹ نے 20 نومبر 2014 کو حکمِ امتناع واپس لیتے ہوئے ٹریبیونل کو کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی۔
  • نومبر 2014 میں عمران خان نے الیکشن ٹرییبونل کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور کہا کہ دھاندلی کے تمام ثبوت ووٹوں والے تھیلوں میں موجود ہیں اُن کو کھولا جائے تو سب سامنے آ جائےگا کہ حلقے میں کس حد تک دھاندلی ہوئی۔
  • الیکشن ٹریبیونل نے دسمبر 2014 کو ووٹوں کے تھیلے کھولنے اور اُن کی جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔
  • جنوری 2015 میں مبینہ دھاندلی کیس میں ووٹوں کی جانچ پڑتال کرنے والے لوکل کمیشن کے جج غلام حسین اعوان نے کہا کہ کوئی جعلی ووٹ نہیں نکلا البتہ اِنتخابی بےضابطگیاں پائی گئی ہیں۔
  • مارچ 2015 میں ٹریبیونل نے حلقہ میں ڈالے گے تمام ووٹوں کی تصدیق نادرا سے کروانے کا حکم دیا۔
  • مئی 2015 میں نادرا نے ووٹوں پر انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے حوالے سے تقریباً 800 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ الیکشن ٹریبیونل کے دفتر میں جمع کروائی تھی۔
  • 17 اگست کو ٹریبیونل نے فریقین کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔