’انتخابی بےضابطگیاں ہوئیں مگر دھاندلی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عدیل اکرم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور کے حلقہ این اے 122 میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے جج غلام حسین اعوان کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی جانچ پڑتال میں کوئی جعلی ووٹ نہیں نکلا البتہ اِنتخابی بےضابطگیاں پائی گئی ہیں۔
یہ بات انھوں نے الیکشن کمیشن میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
غلام حسین اعوان نے کہا کہ جانچ پڑتال میں کوئی دھاندلی نہیں نظر آئی اور نہ ہی کوئی جعلی ووٹ نکلا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اِس بات کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے کہ بے ضابطگیاں غیر قانونی کے زمرے میں آتی ہیں کہ نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر بے ضابطگیاں غیر قانونی قرار دی گئیں تو پھر اِنتخاب متاثر ہو سکتا ہے۔
اِس سے پہلے غلام حسین اعوان سنیچر کو ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور کہا کہ انکوائری کے دوران جو بھی حقائق اُنہیں نظر آئے اُن کو رپورٹ میں تحریر کر دیا ہے۔
عمران خان اور ایاز صادق کے وکلانے غلام حسین اعوان کے بیان کے بعد ان پر باری باری جرح کی۔
الیکشن ٹربیونل نے اب 31 جنوری کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن ٹربیونل نے عمران خان اور ایاز صادق کی دو متفرق درخواستوں پر بھی کارروائی موخر کر دی ہے اور کہا کہ ایاز صادق کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد اِن کا جائزہ لیا جائے گا۔
عمران خان کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دو رنگوں کے جو بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے ہیں ٹربیونل اِس کا جائزہ لے۔
اِنتخابی عذرداری کے اس کیس پر مزید سماعت 31 جنوری کو ہو گی۔
یاد رہے کہ الیکشن ٹریبیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں گذشتہ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کے تھیلے کھولنے کا حکم دیا 4 دسمبر 2014 کو دیا تھا۔
اس سے قبل 29 نومبر 2014 کو الیکشن ٹریبیونل کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد عمران خان نے کہا تھا کہ ’دھاندلی کے سارے ثبوت ووٹوں والے بیگوں میں موجود ہیں۔ اُن کو کھولا جائے گا تو سب سامنے آ جائے گا کہ گذشتہ اِنتخابات میں کس حد تک دھاندلی ہوئی ہے۔







