’50 سال پہلے غلطی سے ہاکی عمران خان کو لگ گئی تھی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لاہور میں قائم الیکشن ٹربیونل نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی نا اہلی کے لیے انتخابی عذرداری پر کارروائی 14 فروری تک ملتوی کر دی۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سنیچر کے روز الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
بیان میں ایاز صادق نے کہا کہ اُن کے حلقے میں دھاندلی نہیں ہوئی ہے اور الیکشن قانون کے مطابق ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حلقے میں دوبارہ گنتی کے بعد بھی اُن کو 8500 ووٹوں سے فتح حاصل ہوئی ہے۔
بیان ریکارڈ کروانے کے بعد عمران خان کے وکلا نے ایاز صادق پر جرح کی۔
الیکشن ٹربیونل کے سامنے آئندہ سماعت پر عمران خان اور ایاز صادق کے وکلا حتمی دلائل دیں گے۔
سردار ایاز صادق کی ٹربیونل میں آمد سے قبل ہی مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر جمع ہو چکی تھی۔
ٹربیونل میں بیان ریکارڈ کروانے کے بعد ایاز صادق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 128 دن تک اُن کا میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کی گئی جبکہ اُن کے خلاف دھاندلی سے متعلق ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ٹربیونل کی کاروائی پر کوئی بات نہیں کریں گے کیوں کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے ان کا مزید کہا تھا کہ نہ تو میں جج ہوں اور نہ ہی عمران خان، دھاندلی کا فیصلہ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر کرنا ہے نہ کہ کسی کی خواہشات پر۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ 2018 تک سپیکر قومی اسمبلی کے منصب پر فائز رہیں گے۔
اِس موقع پر ایاز صادق نے کہا کہ 50 سال قبل جب وہ اور عمران خان چوتھی جماعت کے طالب علم تھے تو ایک دن ہاکی کھیلتے ہوئے اُن کی ہاکی غلطی سے عمران خان کو لگ گئی جس سے عمران خان کے چہرے سے خون نکلنے لگ گیا۔ اور پھر اُن میں کچھ دن کی ناراضگی کے بعد صلع ہو گئی تھی لیکن اُن کو یہ نہیں پتہ تھا کہ عمران خان 50 سال بعد بھی اِس بات کو اپنے دل میں رکھیں گے۔
واضح رہے کہ الیکشن ٹر بیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 میں گزشتہ اِنتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کے تھیلے کھولنے کا حکم 4 دسمبر 2014 کو دیا تھا۔







