عدالتی کمیشن:’سپریم کورٹ وزیراعظم کے ماتحت نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک بار پھر حکومت سے مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشیکل کا مطالبہ کیا ہے تاہم حکومت کے مطابق سپریم کورٹ آزاد ادارہ ہےاور وزیراعظم صرف اسے درخواست کر سکتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سماء نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر عمران خان حکومت کی بات مان لیتے تو معاملہ 15 اگست سے پہلے حل ہو جاتا۔
ان کا کہنا تھا’ ہم نے انتخابی اصلاحات کی کمیٹی14 اگست سے پہلے قائم کر دی تھی اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے خط 14 اگست سے پہلے لکھ دیا تھا۔‘
13 اگست کو وزیراعظم کی جانب سے خط لکھے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے عدالتی کمیشن کیوں تشکیل نہیں دیا؟
اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم سپریم کورٹ کو درخواست کر سکتے ہیں لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کسی طریقے سے بھی حکومت پاکستان کے ماتحت نہیں وہ آزاد اور خودمختار ادارہ ہے۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ایک ممکنا رکاوٹ عمران خان کا رویہ ہے۔ اپنی گفتگو میں انھوں نے یہ ذکر بھی کیا کہ سپریم کورٹ کو وزیراعظم کی جانب سے لکھی گئی درخواست میں یہ طے نہیں کہ کمیشن کتنے دن میں تشیکل دیا جائے۔
دوسری جانب کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جمعے کو پارٹی کی سینیئر قیادت کے ہمراہ کراچی پہنچے اور احتجاجی دھرنوں سے خطاب کیا۔

شاہراہ فیصل پر نرسری کے مقام پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کا قیام کا مطالبہ دہرایا اور کراچی کے عوام کے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ ان کا ایک ضائع ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے کہا کہ کمیشن کی تفتیش میں جو بھی مجرم ثابت ہوا اس کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سزائیں دلوائیں گے، احتساب ہوگا، دھاندلی پکڑی جائیگی نئے انتخابات ہوں گے اور نیا پاکستان بنے گا۔

عمران خان نے اپنے مختصر خطاب میں مزید کہا کہ انہیں نیا پاکستان اور حقیقی جمہوریت نظر آ رہی ہے، یہ حکمران جو اقتدار پر قابض ہیں یہ جائیں اور ایک نئی قیادت سامنے آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کراچی کے بعد لاہور میں احتجاج کرے گی، عمران خان نے پنجاب حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر انھوں نے لاہور میں بھی وہ کیا جو وہ فیصل آباد میں کر چکے ہیں تو پھر اس کے ذمہ دار حکمران خود ہوں گے کیونکہ لوگ اور لاہور کے نوجوان تیار ہیں وہ ان کا مقابلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سنیچر کو باضابطہ طور پر مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ اس سے قبل جمعرات کو دونوں جماعتوں نے رابطہ کر کے مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ کیا۔







