سیلاب سے 151 ہلاکتیں، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح بلند

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 151 تک پہنچ گئی ہے جبکہ گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
این ڈی ایم اے کی ویب سائٹ پر جاری تازہ ترین تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ چشمہ اور تونسہ بیراج پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم کالاباغ ڈیم، کوٹری اور نوشہرہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں اب تک سیلاب کے ہاتھوں 77 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 32، بلوچستان میں 13، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 22 جبکہ گلگت بلتستان میں سات ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سیلاب سے مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 18 ہزار 44 افراد متاثر ہوئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں تباہ ہونے والے دیہات کی تعداد کا اندازہ ابھی مکمل طور پر نہیں لگایا جا سکا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اگرچہ سندھ میں سیلاب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم اب تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ دیہات وہیں تباہ ہوئے ہیں اور یہ تعداد 1622 ہے۔
سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نےسندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ایک ارب روپے کی امداد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق سب سے زیادہ مکانات خیبر پختونخوا میں متاثر ہوئےجن کی تعداد 2161 بتائی جاتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلندری میں 75 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی جن میں لاہور شاہی قلعے میں 42 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شمالی پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان سمیت اہم دریاؤں کے ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔







