خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں سے 10 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں سے مکانات منہدم ہونے اور دیواریں گرنے کے واقعات میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے جس کی وجہ سے نوشہرہ، چارسدہ اور پشاور کی مقامی انتظامیہ کو سیلابی خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں چشمہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سے لے کر چھ لاکھ کیوسک تک بڑھنے کا امکان ہے جس سے ضلعی انتظامیہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیر بالا میں سیلابی ریلے میں تین افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ لکی مروت اور کوہاٹ میں بھی بارشوں کی وجہ سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ضلع ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک مکان کی چھت گرنے سے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر خالد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر کی شام سے بارشوں میں وقفہ آ جانے بعد صوبے کے میدانی علاقوں میں کسی بڑے سیلاب کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر دریائے کابل کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

نوشہرہ کے مقامی صحافی سہیل کاکاخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ محکمۂ موسمیات کے مطابق نوشہرہ میں سیلاب کا حظرہ موجود ہے تاہم حالات اتنے خراب نہیں ہے جتنا کہ ذرائع ابلاغ میں بیان کیے جا رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا، بالخصوص چترال، میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی جس سے صوبے بھر میں اب تک مجموعی طور پر 60 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے اب تک صوبے کے مختلف اضلاع میں سات سو کے قریب مکانات مکمل یا جزوی طورپر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ سڑکیں اور پل پانی بہہ جانے کی وجہ سے کئی علاقوں سے زمینی رابطے اب بھی منقطع ہے۔