کوٹری سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

ماضی میں مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کی تشدد شدہ لاشیں کراچی سے ملتی رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماضی میں مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کی تشدد شدہ لاشیں کراچی سے ملتی رہی ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کوٹری کے قریب سے پولیس کو اہل حدیث مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے ان دو افراد کی تشدد شدہ لاشیں ملی ہیں جو کئی ماہ سے لاپتہ تھے۔

کوٹری پولیس کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ پر بولھاڑی کے قریب سے گزشتہ شب دو لاشیں ملیں جنہیں سر میں گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔

یہ دونوں لاشیں تعلقہ ہسپتال کوٹری منتقل کی گئیں جہاں دونوں کی شناخت صہیب سموں اور اجمل خلجی کے نام سے کی گئی ہے۔

صہیب حیات ضلع تھرپارکر کے شہر اسلام کوٹ جبکہ خلجی حیدرآباد کے علاقے ہالہ ناکہ کے رہائشی تھے۔

صہیب احمد کی لاش ان کے چچا اشرف سموں نے وصول کی۔

اشرف سموں کا کہنا ہے کہ 37 سال صہیب کا مٹھی میں آرمی پبلک اسکول کے قریب گلستان صحرا فاؤنڈیشن کے نام سے مدرسہ تھا جہاں وہ بچوں کو دینی تعلیم دیا کرتے تھے۔

اشرف سموں کے مطابق 18 فروری کی شب انہیں رات کو مدرسے والوں نے اطلاع دی کے صہیب کو چار گاڑیاں میں سوار لوگ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

’میں جب مدرسے پہنچا تو بچے ڈرے اور سہمے ہوئے تھے جبکہ کتابیں بکھری ہوئی تھیں، اساتذہ نے بتایا کہ اہلکاروں نے معلوم کیا کہ مدرسہ رجسٹرڈ ہے یا نہیں بعد میں صہیب کو ساتھ لے گئے۔‘

صہیب کے چچا سے جب بات ہوئی تو وہ لاش ایمبولینس میں لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔

37 سالہ صہیب مٹھی میں ایک مدرسہ چلاتے تھے اور رواں برس فروری سے لاپتہ تھے
،تصویر کا کیپشن37 سالہ صہیب مٹھی میں ایک مدرسہ چلاتے تھے اور رواں برس فروری سے لاپتہ تھے

انھوں نے بتایا کہ صہیب کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن کچی رپورٹ بھی درج نہیں کی گئی اور بالاخر گزشتہ شب کوٹری پولیس نے رابطہ کر کے بتایا کہ انہیں دو لاشیں ملی تھیں جن میں سے ایک کا نام صہیب ہے۔

اشرف سموں کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھتیجے کا کسی مذہبی و سیاسی تنظیم یا شدت پسند گروہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ’وہ اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اپنا ایک خیال اور سوچ ضرور تھی۔‘

صہیب احمد پنجاب کے علاقے فیصل آباد کے مدرسے سے فارغ التحصیل تھے بعد میں انہوں نے مٹھی میں مدرسہ قائم کیا جس میں پچاس سے زائد طالب علم زیر تعلیم تھے۔

اشرف سموں کے مطابق صہیب کی کچھ دوستوں نے مدد کی تھی جس سے انہوں نے زمین خریدی اور بعد میں پانچ کمروں پر مشتمل مدرسہ قائم کیا۔

32 سالہ اجمل خلجی کی لاش ان کے بھائی محمد انور نے وصول کی۔ کوٹری تحصیل ہپستال میں محمد انور نے بتایا کہ ان کے بھائی گزشتہ 7 ماہ سے لاپتہ تھے اور انھیں حیدرآباد کے علاقے کالی موری پر واقعے آئل ڈپو سے دو ڈبل کیبن میں سوار افراد ساتھ لے گئے تھے جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

اجمل خلجی کی بھی کسی مذہبی جماعت یا شدت پسند گروہ سے وابستگی سامنے نہیں آسکی ہے، تاہم ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔

یاد رہے کہ اندرونِ سندھ سے ایسی لاشیں ملنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے مذہبی رجحان رکھنے والے افراد کی تشدد شدہ لاشیں کراچی سے ملتی رہی ہیں جن کا تعلق پولیس کالعدم تحریک طالبان کے مختلف گروہوں سے بتاتی رہی ہے۔