کراچی کے قریب حب سے دو تشدد زدہ لاشیں برآمد

کراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں سے گذشتہ کچھ عرصے سے تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں سے گذشتہ کچھ عرصے سے تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کراچی سے متصل حب کے علاقے سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

یہ لاشیں پیر کے روز کراچی شہر سے ڈیڑھ کلومیٹر دور بلوچستان کے علاقے حب ڈیم کے قریب سے برآمد ہوئی ہیں۔

لسبیلہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ لاشوں کی اطلاع ملنے پر جب پولیس وہاں پہنچی تو دو لاشوں کے علاوہ وہاں سے ایک شخص زخمی حالت میں بھی ملا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ تینوں افراد کو سر میں گولیاں ماری گئی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو شخص بچ گیا ہے گولی اس کے سر کو چھو کر گزری تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد اور زخمی شخص کی شناخت ہو چکی ہے جن کا تعلق کراچی سے ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت فہیم اور طارق میمن کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی ہونے والے کا نام اللہ واڈیو مہر ہے۔

ان تینوں افراد کا تعلق بالترتیب گلشن ادیب، کھارادر اور گلستان جوہر سے ہے۔

زخمی ہونے والے شخص سے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے پولیس افسر نے بتایا کہ ان تینوں افرا د کو نامعلوم مسلح افراد نے گذشتہ شب کراچی سے اٹھایا تھا۔

تینوں افراد کوگولیاں مارنے کے بعد ان کو حب ڈیم کے قریب پھینکا گیا۔ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ ان افراد کو اٹھانے والے کون افراد تھے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے بعد گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی سے بھی تشدد زدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔