سندھ میں قوم پرستوں کی ہلاکتوں پر احتجاج

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ
سندھ میں قوم پرست کارکنوں کی جبری گمشدگی اور تشدد شدہ لاشیں برآمد ہونے کے خلاف کراچی، حیدرآباد اور سکھر سمیت کئی شہروں میں انسانی حقوق کی تنظیمیوں، ادیبوں اور شاعروں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
کراچی میں انسانی حقوق کمیشن، سندھی ادبی سنگت، سندھ تھنکرز فورم سمیت سول سوسائٹی کے کارکنوں نے پریس کلب سے سندھ اسمبلی تک مارچ کیا۔ مقررین نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سندھ میں رواں سال کے گیارہ ماہ میں 70 قوم پرست کارکنوں کی ہلاکتیں سامنے آئی ہیں، جن میں سے اکثر کئی ماہ لاپتہ رہے۔ ماضی میں اتنی تعداد میں ہلاکتوں کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
کراچی میں احتجاج میں شریک نامور شاعرہ فہمیدہ ریاض کا کہنا تھا کہ آجکل کی سیاست بڑی پیچیدہ اور چلباز ہوچکی ہے، وہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح سے لاشیں گرانے کا مقصد لوگوں میں خوف پھیلانے کی کوشش ہے تاکہ دوسرا کوئی ہمت نے کرے یا آواز بلند نہ کرے۔’سندھ میں لوگ ووٹ پر یقین رکھتے ہیں اور یہاں پر کوئی علیحدگی پسند نہیں ہے۔‘

جنرل ضیاالحق کی آمریت کا سامنا کرنے والی شاعرہ فہمیدہ ریاض کا کہنا تھا کہ 1970 کی دہائی میں جب بلوچستان میں لاشیں مل رہی تھیں تو انھوں نے سندھی ادیبوں کی منتیں کی تھیں لیکن انھوں نے بلوچوں سے یکہجتی کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ وہ بھٹو کا دور تھا لیکن کم سے کم اب آواز اٹھانا چاہیے۔
انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین اسد بٹ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں لگنے والی آگ سندھ کے دیہاتوں میں پھیل گئی ہے، وہ فوج اور ایجنسیوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس بار بھی جارحیت کا مقابلہ سینے سے کریں گے۔
’جہاں آپ نفرت کے بیج بوتے ہیں وہاں سمجھتے ہیں کہ پیار کے پھول کھلیں گے تو یہ آپ کی بہت بڑی غلطی ہے‘
سندھی ادیب اور دانشور جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ سندھ میں جس انداز سے ریاستی ادارے سیاست کارکن کو اغوا کرتے ہیں اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں یہ اکیسویں صدی میں ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کا یہ بنیادی آئینی فرض ہے کہ وہ اس قسم کی ریاستی دہشت گردی کا از خود نوٹس لیں، سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ اپنے وجود کا ثبوت دیں۔‘
جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی اس معاملے پر خاموشی سندھ کے لوگوں کے لیے ایک سوال ہے کیونکہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا دور ہے، اسمبلیاں موجود ہیں تمام انسانی حقوق بحال ہیں پھر سیاسی کارکنوں کی بے رحمانہ ہلاکتوں پر وفاقی حکومت کیوں خاموش ہے۔
جامی چانڈیو نے بتایا کہ امریکہ، لندن اور جنیوا میں بھی سندھی سوسائٹی کی جانب سے سیاسی کارکنوں کے قتل پر احتجاج کیے جا رہے ہیں۔
سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شہلا رضا نے مظاہرین سے باہر آکر بات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ایوان میں اس معاملے پر بات کی جائے گی۔







