سندھ:’اب یہاں قوم پرستی کا رجحان زیادہ ہے‘

لطف پیرزادہ کے ہم عمر چھوٹے ماموں سندھ کے نامور صحافی اور محقق انور پیرزادہ کی قبر سرویچ کی قبر کے برابر میں ہے
،تصویر کا کیپشنلطف پیرزادہ کے ہم عمر چھوٹے ماموں سندھ کے نامور صحافی اور محقق انور پیرزادہ کی قبر سرویچ کی قبر کے برابر میں ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ

پھولوں کی چادر، جئے سندھ تحریک کا سرخ جھنڈا، اجرک، مٹی کا ڈھیر اور ان کے نیچے 20 سالہ سرویچ پیرزادہ دفن ہے۔

قبر پر والد کئی درجن اگربتیاں جلاکر ماحول کو معطر کر رہے ہیں، بلھڑیجی کے قبرستان میں یہ اضافہ دو روز قبل اس وقت ہوا جب تین ماہ سے لاپتہ سرویچ پیرزادہ کی سپر ہائی وے سے تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی۔

سرویچ کے والد لطف پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کوئی بڑا لیڈر نہیں بلکہ ایک چھوٹا کارکن تھا۔گمشدگی سے قبل وہ کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ سے مستعفی ہو چکا تھا اور ان دنوں ایک نجی ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔

جیب سے سگریٹ نکال کر سلگاتے ہوئے وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے اشعار کا حوالہ دیکر اپنا درد بیان کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ’یہ ایک ایسی جدائی ہے جس کا کوئی روڈ میپ نہیں، لیکن یہ کرب اس تکلیف سے کم ہے جو گمشدگی کی دنوں میں وہ بھگت رہے تھے۔‘

’ان دنوں ہوا کا تھوڑا بھی جھونکا آتا تھا تو میں اٹھ کر دروازے پر جاتا کہ کہیں سرویچ تو نہیں آیا، میرا بھائی کراچی میں رہتا ہے۔ عید وہاں کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن میں نے کہا کہ میں یہاں رکوں گا ایسا نہ ہو کہ سرویچ گھر آئے تو اس دروازہ بند ملے۔‘

سرویچ پیزادہ موئن جو دڑو کے قریبی گاؤں بلھڑیجی کا رہائشی تھا۔

دریائے سندھ کے کچے کے نزدیک آْباد اس گاؤں پر کبھی کمیونسٹ رنگ حاوی تھا۔ شاہ لطیف کی شاعری اور کمیونسٹ نظریہ یہاں فکری نشستوں کا موضوع ہوتا تھا لیکن اب یہاں قوم پرستی کا رجحان زیادہ ہے۔

سرویچ کے والد لطف پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کوئی بڑا لیڈر نہیں بلکہ ایک چھوٹا کارکن تھا
،تصویر کا کیپشنسرویچ کے والد لطف پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کوئی بڑا لیڈر نہیں بلکہ ایک چھوٹا کارکن تھا

لطف پیرزادہ کبھی سرخ انقلاب کے منتظر تھے وہ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا سندھ کی راہ میں ’شہید‘ ہوا ہے اگر وہ بازیاب ہو کر بھی آتا تو اس کو یہ اعزاز تو نصیب نہیں ہوتا۔

لطف پیرزادہ کے ہم عمر چھوٹے ماموں سندھ کے نامور صحافی اور محقق انور پیرزادہ کی قبر سرویچ کی قبر کے برابر میں ہے۔

انور پیرزادہ پاکستان ایئر فورس میں تھے۔ بنگلہ دیش میں فوجی آپریش کے وقت ایک طویل خط لکھ کر مستعفی ہوگئے تھے۔

کئی برس گزر جانے کے بعد لطف پیرزادہ سندھ کی صورتحال کا موازنہ بنگلادیش سے کرتے ہیں۔

بقول ان کے ’ایجنسیوں کو جمہوریت کی آڑ حاصل ہے جس کا وہ غلط فائدہ اٹھا رہی ہیں۔یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بنگالیوں کی طرح سندھی اور بلوچوں کو بھی اب دیوار سے لگا جائے، اب معلوم نہیں ہے کہ انھوں نے ہمارے لیے کیا فیصلہ کیا ہے، آخر رہنا تو اسی دھرتی پر ہے اب ان کروڑوں لوگوں کو سمندر میں تو نہیں پھینک سکو گے، آپ کو وسائل چاہیے، تیل اور گیس چاہیے وہ تو آپ لے رہے ہیں۔‘

گذشتہ ایک ماہ میں سندھ اور اس کے سرحدی علاقوں سے آٹھ لاپتہ قوم پرست کارکنوں کی تشدد شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ جن میں سے سات کا تعلق حکمران جماعت پاکستان پیلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ ضلعے سے تھا۔ 2007 میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اسی ضلعے سے سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔

سندھ میں علیحدگی کی تحریک کے بانی جی ایم سید نے اپنے مقصد کے لیے پرامن جدوجہد کا انتخاب کیا تھا، جس کی پیروی جئے سندھ تحریک کے کئی دھڑے آج بھی کرتے ہیں۔

نامور سندھی ادیب اور دانشور جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے ردعمل میں جو انتہاپسندی بڑھے گی اور وہ جمہوری کو ملنے والی جگہ کو ہائی جیک کر لے گی۔ سندھ کے لوگوں کو ووٹ اور ریاست پر اعتماد ہے۔

تین ماہ سے لاپتہ سرویچ پیرزادہ کی سپر ہائی وے سے تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتین ماہ سے لاپتہ سرویچ پیرزادہ کی سپر ہائی وے سے تشدد شدہ لاش برآمد ہوئی

’یہاں کسی مسلح جدوجہد کے آثار ہی موجود نہیں اور نہ ہی کوئی منظم نیٹ ورک ہے، ہاں نقطہ نظر ضرور موجود ہیں، جس کے محرکات بھی دستیاب ہیں اور یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ کس طرح سوچتا ہے۔ لیکن کارکنوں کا ماورائے عدالت اغوا، ان کے بدترین انداز میں چہرے مسخ کر دینا یہ درست نہیں ہے۔ یہ چند افراد کی لاشیں نہیں ہیں یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کے نتیجے میں سندھ میں جو ردعمل نظر آ رہا ہے کہ اس کے دور رس سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔‘

کئی لاپتہ قوم پرست کارکنوں کی جبری گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر ہیں، جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کر چکی ہیں، بیرسٹر ضمیر گھمرو مقتول نوجوان سرویچ پیرزادہ کے وکیل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ریاستی ادارے جب غیر قانونی طریقہ اختیار کریں گے تو ردعمل بھی ایسا ہی آئے گا۔‘

’زیادہ تر لاپتہ لوگوں کی لاشیں ہی ملتی ہیں، پہلے یہ ہوتا تھا کہ بندے کو پیش کیا جاتا تھا اور ریاست اپنی کچھ ذمہ داری محسوس کرتی تھی لیکن اب حبس بجا میں رکھنے کے خلاف درخواست دائر ہوتی ہے اور لاپتہ بندہ کہاں ہے، کس کے پاس ہے پتہ نہیں پڑتا ہے، ایک بار اگر عدلیہ سے بھی لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا تو صورتحال سنگین ہو جائے گی اور کوئی بھی ریاست کی رٹ کو تسلیم نہیں کرے گا۔‘

سندھ کی جامعات قوم پرست تنظیموں کی نرسریاں رہی ہیں، لاپتہ اور ہلاک ہونے والوں میں طالب علم بھی شامل تھے۔ وسائل تک عدم رسائی اور غربت دیہی نوجوان کے احساس محرومی میں اضافہ کر رہی ہیں، ان میں سے کئی ایک کو نجات ایسی راہ میں نظر آتی ہے، جس کی 21ویں صدی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔