شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد چوتھی بار موخر

سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہے جس کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب کو شفقت حسین کی سزا پر عملدرآمد ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ہے۔
پیر کو شفقت حسین کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ۔
اس مقدمے کی سماعت منگل کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کرے گی۔
شفقت حسین کی عمر کے تنازعے کو بنیاد بناکر سزائے موت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیے جانے کے بعد شفقت حسین کی سزا پر عملدرآمد چوتھی بار موخر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھے جس کے تحت 9 جون یعنی منگل کو ان کو کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں شفقت حسین کی سزائے موت کے خلاف درخواست کی سماعت کی منظوری کے بعد سزا پر عملدرآمد موخر کیا گیا ہے۔
جیل حکام کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کو کراچی سینٹرل جیل میں منگل کی صبح پھانسی دی جانی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ اس سے پہلے انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر ان کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کیا جاتا رہا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت شفقت حسین خود نوعمر تھے مگر وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں جرم کے وقت ان کی کم عمری ثابت نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے روک دیا تھا۔
تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھانسی کے مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔
24 سالہ شفقت حسین کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل ہے جنھیں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شفقت حسین کے کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کیونکہ ٹرائل کورٹ میں ان کی عمر کے معاملے کو نہیں اٹھایا گیا تھا اس لیے اب عدالتِ عظمٰی کسی نئے ثبوت پر غور نہیں کر سکتی۔







