شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ دوبارہ جاری

جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے
،تصویر کا کیپشنجسٹس پروجیکٹ پاکستان نے شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں سزائے موت کے منتظر قیدی شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ ایک بار پھر جاری کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل شفقت حسین کی عمر کا تعین کرنے کے لیے سزائے موت پر عمل درآمد ایک ماہ تک روک دیا گیا تھا۔ نئے احکامات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ مئی کے لیے اس کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ شفقت حسین نے اپنی عمر کی تصدیق کے لیے جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں عمر کے تعین کے لیے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کی تحقیقات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

شفقت حسین کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عدالت عمر کے تعین کے ساتھ ان پر تشدد کی تحقیقات کی انکوائری کا بھی حکم دے۔

اس سے قبل صدر ممنون حسین نے 18 مارچ کو ملزم کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی جبکہ عمر کے تعین کے لیے 30 روز کے لیے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

شفقت حسین پر سنہ 2001 میں ایک پانچ سالہ لڑکے عمیر کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے سنہ 2004 میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

دوسری جانب جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی سارہ بلال نے شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

سارہ بلال کے مطابق اس کیس سے متعلق ایک درخواست ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے اور اصولی طور پر ڈیتھ وارنٹ جاری نہیں کیے جا سکتے۔

سارہ بلال کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ سزائے موت کے معاملات غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں اور پاکستان کو ایسے انصاف کی ضرورت نہیں ہے۔