’پھانسی کے منتظر شفقت کا برتھ سرٹیفیکیٹ منظرِعام پر‘

کراچی میں 14 سال کی عمر میں بچے کے اغوا کے جرم میں موت کی سزا پانے والے قیدی شفقت حسین کے اہلِ خانہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ان کی سزا کم عمری کی بنیاد پر معاف کرنے کی اپیل کی ہے۔
بدھ کو مظفر آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شفقت حسین کا برتھ سرٹیفیکیٹ بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا۔
شفقت حسین کی پھانسی کے لیے 19 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور اس کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
تاہم منگل کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شفقت حسین کی عمر کا کوئی مصدقہ ریکارڈ پیش کیا جائے تو حکومت اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود ان کے اہلِ خانہ کی طرف سے پریس کانفرنس کے دوران شفقت حسین کا برتھ سرٹیفیکیٹ مہیا کیا گیا جس میں ان کی تاریخ پیدائش یکم اکتوبر 1991 درج ہے۔
صحافی رئیس خواجہ کے مطابق شفقت کے بڑے بھائی منظور حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ برتھ سرٹیفیکیٹ ان کی آبائی علاقے ٹاؤن کمیٹی کیل کے سیکریٹری کی جانب سے جاری ہوا ہے اور اس کے مطابق ان کی عمر اس وقت ساڑھے 23 سال ہے۔
ان دستاویزات کے مطابق 2004 میں عدالت کی جانب سے سزائے موت کے وقت اس کی عمر 13 برس سے کچھ ہی زیادہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Jarral
میڈیا کو فراہم کیا جانے والا برتھ سرٹیفیکیٹ 22 دسمبر 2014 کو جاری ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاخیر سے سرٹیفکیٹ کے اجرا پر بات کرتے ہوئے منظور حسین کا کہنا تھا کہ ان کا علاقہ پسماندہ ہے اور برتھ سرٹیفیکیٹ کی فوری بنوائے جانے کی کوئی روایت نہیں ہے۔
برتھ سرٹیفیکیٹ کے علاوہ پریس کانفرنس میں شفقت کے اہلِ خانہ کے شناختی کارڈوں کی نقول اور بیانِ حلفی بھی دکھائے گئے جن میں شفقت کی عمر کی تصدیق کے بیانات قلمبند کیےگئے ہیں۔
شفقت حسین کے مقدمے کی پیروی کرنے والی سماجی تنظیم جسٹس پروجیکٹ کے کوارڈینیٹر یاسر شہباز کے مطابق وزارتِ داخلہ پاکستان کو برتھ سرٹیفیکیٹ سمیت تمام دستاویزات ای میل کر دی گئی ہیں اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے دفتر کو ’ہارڈ کاپی‘ بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شفقت کی اپیل کی درخواست کے ساتھ بھی برتھ سرٹیفیکیٹ فراہم کیا گیا تھا لیکن عدالت کی جانب سے درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی تھی کہ سزائے موت سے قبل ٹرائل کے دوران برتھ سرٹیفیکیٹ پیش کیا جانا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ شفقت حسین کی زندگی کے لیے یہ لمحات کتنے اہم ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں شفقت حسین کے کیس کی پیروی کرنے والے اس کے بھائی گل زمان کو پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ شفقت کو 19 مارچ کو صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی ہوگی۔
گلستان جوہر تھانے کے ایک ہیڈ کانسٹیبل نے گل زمان سے رابط کر کے پھانسی کے اوقات سے آگاہ کیا ہے۔گل زمان کا کہنا ہے کہ اسے جیل کے حکام کی جانب سے آخری ملاقات کے لیے نہیں بلایا گیا نہ خاندان کے کسی اور فرد کو بلایا گیا ہے۔
شفقت حسین کے بڑے بھائی منظور حسین کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ شفقت سے ملاقات کے لیے کراچی جا سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Jarral







