شفقت کی سزائے موت پر عمل درآمد موخر، مزید چار کو پھانسی

شفقت حسین کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں ان کی تاریخ پیدائش یکم اکتوبر 1991 درج ہے
،تصویر کا کیپشنشفقت حسین کے برتھ سرٹیفیکیٹ میں ان کی تاریخ پیدائش یکم اکتوبر 1991 درج ہے

کراچی میں ایک بچے کے اغوا کے جرم میں 14 سال کی عمر میں موت کی سزا پانے والے قیدی شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد تین دن کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔

تاہم راولپنڈی اور میانوالی میں مزید چار افراد کو جمعرات کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

شفقت حسین کی پھانسی کے خلاف ملک میں سماجی تنظیموں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی تھی۔

صوبۂ سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے بدھ کو رات گئے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر پھانسی ملتوی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ’شکر ہے خدا کا، ابھی شفقت حسین سے متعلق خط موصول ہوا۔ اسے 72 گھنٹوں کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔‘

کراچی سینٹرل جیل کے ایک اہلکار نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’فیکس آ گیا ہے کہ پھانسی موخر کر دی گئی ہے۔ ‘

اس سے قبل شفقت حسین کے مقدمے کی پیروی کرنے والی سماجی تنظیم جسٹس پروجیکٹ کے ترجمان شہاب صدیقی نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے بھیجے گئے نمائندے رات گیارہ بجے کے قریب ان سے شفقت حسین کے ِخاندان کی جانب سے دائر کردہ رحم کی اپیل کی تازہ کاپی لے کر گئے ہیں تاکہ اس پر فوری حکم جاری کیا جا سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شفقت حسین کے خاندان والوں کا بھی کہنا ہے کہ انھیں کسی سرکاری اہلکار نے تو نہیں بتایا تاہم ایسی خبریں مل رہی ہیں کہ سزا موخر کر دی گئی ہے۔

صوبۂ سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی تصدیق کی

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنصوبۂ سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اس بات کی تصدیق کی

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے شفقت حسین کو 2001 میں ایک سات سالہ بچے کو اغوا اور قتل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2004 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انھیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

تاہم 2014 میں سماجی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ شفقت نے جب یہ جرم کیا تو وہ نابالغ تھے اور کسی نابالغ کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

بدھ کو شفقت حسین کے اہلِ خانہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اعلیٰ حکام سے کم عمری کی بنیاد پر ان کی سزا معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شفقت حسین کا برتھ سرٹیفیکیٹ میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا جس میں ان کی تاریخ پیدائش یکم اکتوبر 1991 درج ہے۔

شفقت حسین کی پھانسی کے لیے 19 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی تھی اور ان کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے تھے۔

اس سے قبل منگل کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شفقت حسین کی عمر کا کوئی مصدقہ ریکارڈ پیش کیا جائے تو حکومت اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

شفقت کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اس مقدمے میں پہلے دن سے انصاف نہیں کیا گیا
،تصویر کا کیپشنشفقت کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اس مقدمے میں پہلے دن سے انصاف نہیں کیا گیا

مزید چار پھانسیاں

شفقت کی سزا پر عمل درآمد ملتوی ہونے کے باوجود ملک میں پھانسیاں دیے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعرات کی صبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے تین مجرموں کو پھانسی دی گئی۔

یہ تینوں افراد قتل کے مقدمات میں سزا یافتہ تھے اور سزاؤں کے خلاف ان کی اپیلیں اور پھر صدر کی جانب سے رحم کی اپیل بھی مسترد ہو چکی تھی۔

راولپنڈی کے علاوہ میانوالی جیل میں بھی ایک مجرم عبدالستار کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا جس نے 1992 میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔

پاکستان میں رواں ہفتے پھانسی دیےجانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے اور صرف تین دن میں 25 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔