شفقت حسین کی سزائے موت روک دی گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حکومتِ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے موت کی سزا پانے والے قیدی شفقت حسین کی سزائے موت روک دی ہے۔
خیال رہے کہ شفقت حسین کو 14 جنوری کو سزائے موت دی جانی تھی۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پیر کو شفقت حسین کی سزائے موت روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایک تحقیقاتی ٹیم اس مقدمے کی مزید تفتیش کرے گی۔
شفقت حسین کو کراچی میں سنہ 2004 میں ایک بچے کے اغوا اور قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور جس وقت مبینہ طور پر انھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا ان کی عمر 14 برس تھی۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے شفقت حسین سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیان حاصل کیا تھا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نےسزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔
24 سالہ شفقت حسین کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل ہے جنھیں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔







