شفقت حسین کا بلیک وارنٹ چوتھی بار جاری، پھانسی نو جون کو

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کے بلیک وارنٹ جاری کر دیے ہیں جس کے تحت انہیں نو جون کو پھانسی دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی تین بار ان کے بلیک وارنٹ جاری ہوئے تھے مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر ان کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کیا جاتا رہا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت شفقت حسین خود نوعمر تھے مگر وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں جرم کے وقت ان کی کم عمری ثابت نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے روک دیا تھا۔
تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھانسی کے مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔
24 سالہ شفقت حسین کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل ہے جنھیں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شفقت حسین کے کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کیونکہ ٹرائل کورٹ میں ان کی عمر کے معاملے کو نہیں اٹھایا گیا تھا اس لیے اب عدالتِ عظمٰی کسی نئے ثبوت پر غور نہیں کر سکتی۔



