عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن، شفقت حسین کی درخواست مسترد

شفقت کے اہلِ خانہ ان کا برتھ سرٹیفکیٹ بھی پیش کر چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشفقت کے اہلِ خانہ ان کا برتھ سرٹیفکیٹ بھی پیش کر چکے ہیں

پاکستان کی اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھانسی کے مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

خیال رہے کہ ایک بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ منگل کو روک دیا تھا۔

شفقت حسین کے مقدمے کی پیروی کرنے والی سماجی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے اہلکار شہاب صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کی صبح اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی۔

انھوں نے بتایا کہ ’عدالت نے جمعے کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا، ہم نے تحریری اور زبانی دونوں دلائل مکمل کیے تھے، عدالت نے آج اپنے فیصلے میں کمیشن بنانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی معلوم نہیں کہ عدالت نے کمیشن نہ بنانے کی کیا وجہ بتائی ہے۔

’اس کی وجوہات تفصیلی تحریری فیصلے میں سامنے آئیں گی جو ابھی ہمیں موصول نہیں ہوا، اس کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘

مجرم کی عمر کا تعین کس کا کام

شفقت کی والدہ مخنی بیگم
،تصویر کا کیپشنشفقت کی والدہ مخنی بیگم

پانچ مئی کو عدالت کے روبرو شفقت حسین کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے انپے دلائل میں کہا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف قتل کے مقدمے میں عدالتی کارروائی شروع کی گئی تو وہ کم عمر تھے اور ان کو سزا دینے سے متعلق یہ اہم معاملہ نظر انداز کر دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس ضمن میں واضح احکامات ہیں کہ کسی بھی مجرم کی عمر کا تعین عدالت کرے گی۔

اس موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے اس معاملے کی روزانہ سماعت کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ مجرم کی عمر کا تعین ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں توہینِ مذہب کے مقدمے میں غیر مسلم لڑکی رمشا مسیح کی عمر کے تعین کے لیے بھی عدالتی حکم پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے رمشا مسیح کی ہڈیوں کا ٹیسٹ لے کر انھیں نوعمر قرار دیا تھا اور عدالت نے اُن کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ ختم کر دیا تھا۔