’گلگت پاکستان کی سلامتی کے لیے اہم‘

صرف اکبر نہیں گلگت بلتستان میں ووٹر کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اپنے آئینی حقوق حاصل کرنےکے لیے اتنے ہی پر عزم ہیں جتنے کہ اکبر
،تصویر کا کیپشنصرف اکبر نہیں گلگت بلتستان میں ووٹر کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اپنے آئینی حقوق حاصل کرنےکے لیے اتنے ہی پر عزم ہیں جتنے کہ اکبر
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گلگت بلتستان

اکبر حسین گذشتہ 20 برس سے اسلام آباد اور گلگت کے درمیان گاڑی چلا رہے ہیں۔ ان کا کاروبار علاقے میں سیاحت سے وابستہ ہے جو کہ پاکستان میں امن وامان کی مجموعی صورتحال سے کافی متاثر ہوا ہے۔

اکبر کاروبار کے اتار چڑھاؤ سے پریشان تو ہیں اور توقع بھی رکھتے ہیں کہ آنے والی حکومت ایسے اقدامات کرے کہ ان کے گھر میں خوشحالی ہو لیکن حالیہ انتخابات میں اپنے نمائندوں سے ان کی توقعات کچھ مختلف ہیں۔

اکبر حسین کہتے ہیں کہ’ابھی تک پاکستان کے وفاق میں ہماری کوئی حثیت ہی نہیں۔ ہمیں نہ سینیٹ میں نمائندگی دی گئی ہے نہ قومی اسبملی میں۔گلگت بلتستان میں انتخابات ہورہے ہیں اور ہماری یہی خواہش ہے کہ جو بھی جماعت منتخب ہو اس کی آواز وفاق تک پہنچے تاکہ ہمارے لوگوں کو ان کی حیثیت اور مقام مل سکے۔‘

صرف اکبر نہیں گلگت بلتستان میں ووٹر کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اپنے آئینی حقوق حاصل کرنےکے لیے اتنا ہی پر عزم ہے جتنے کہ اکبر۔

گلگت بلتستان کو سنہ 2009 میں سیلف گورننس آرڈر کے تحت ایک قانون ساز اسمبلی دی گئی ہے۔ جس کا وزیراعلٰی بھی ہے اور صوبے کا ایک گورنر بھی۔ لیکن یہاں کے سیاست دانوں اور عوام کا خیال ہے کہ انھیں نہ تو حقیقی اختیارات ملے ہیں ا ور نہ ہی انھیں اس طرح سے پاکستان کا حصہ بنایا گیا ہے جس طرح کہ دوسرے صوبوں کے عوام کو۔

اس مرتبہ لوگ اپنے حقوق کے لیے اور اپنے علاقے کی ترقی کی بنیاد پر حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناس مرتبہ لوگ اپنے حقوق کے لیے اور اپنے علاقے کی ترقی کی بنیاد پر حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں

گلگت بلتستان اسبملی کے سپیکر وزیر بیگ کا تعلق ہنزہ سے ہے۔ وہ سنہ 2009 میں پیپلز پارٹی کی نشست پر رکن منتخب ہوئے تھے، سپیکر بننے کے بعد اپنے فرائض غیرجانبداری سے بنھاتے رہے۔

وزیربیگ کہتے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اس حد تک تو مشکور ہیں کہ انھوں نے گلگت کے نمائندوں کو مختلف پارلیمانی فورمز پر مدعو کیا، اور سینیٹ کی سطح پر ان معاملات کو طے کرنے کے لیے چئیرمین سینیٹ رضا ربانی کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنی جس نے اعتراف بھی کیا کہ گلگت کی اسمبلی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

’کمیٹی نے سفارشات دیدی ہیں لیکن فیصلہ تو وزیراعظم پاکستان کو کرنا ہے، لیکن ہماری اسمبلی اور وزیراعلٰی کو وہ اختیارات نہیں جو دوسرے صوبوں کی اسمبلیوں کو ہیں‘۔

سنہ 2009 میں انتخابات پر فرقہ وارانہ رنگ حاوی تھا۔ لیکن پانچ برس میں اور گلگت بلتستان کے عوام کو اور کچھ ملا یا نہیں سیلف گورننس آرڈر اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والے سیاسی عمل نے لوگوں کو سیاسی پختگی ضرور دی ہے۔

اس مرتبہ لوگ اپنے حقوق کے لیے اور اپنے علاقے کی ترقی کی بنیاد پر حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

’ہمیں نہ سینیٹ میں نمائندگی دی گئی ہے نہ قومی اسبملی میں‘
،تصویر کا کیپشن’ہمیں نہ سینیٹ میں نمائندگی دی گئی ہے نہ قومی اسبملی میں‘

پارٹی کوئی بھی ہو منشور کیسا بھی ہو گلگت کے سیاست دان آئینی حقوق کے حصول پر متفق ہیں اور پاکستان میں سیاست دان بھی ان حقوق کے مخالف نہیں۔

تو پھرسوال یہ ہے کہ آخر گلگت کی عبوری حیثیت کو ختم کرکے اسے پاکستان کا مستقل حصہ بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہے کیا؟

گلگت بلتستان کے نگران وزیراطلاعات عنایت اللہ خان شمالی کہتے ہیں:’ہمیں اس چیز کا احساس ہے کہ آئینی حقوق کے حصول میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ گلگت بلتستان کا علاقہ کشمیر کا حصہ رہا ہے اور اس حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں۔ اس لیے وفاق کے لیے اسے پاکستان کا مستقل حصہ بنانے میں مسائل اور مجبوریاں ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ ہم سجمھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو سامنے رکھتے ہوئے بھی گلگت کے عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے کوئی درمیانی راہ نکالی جاسکتی ہے۔‘

وہ درمیانی راہ کیا ہے؟ اس پر گلگت کی سیاسی پارٹیوں میں شدید اختلافات ہیں۔

حافظ حفیظ الرحمان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر ہیں اور خود بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس مسئلے پر آج منتخب اسمبلی کوئی پیشرفت کرپائے گی؟ مستقبل میں گلگت کی سیاسی سمت اسی سے طے ہوگی
،تصویر کا کیپشناس مسئلے پر آج منتخب اسمبلی کوئی پیشرفت کرپائے گی؟ مستقبل میں گلگت کی سیاسی سمت اسی سے طے ہوگی

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ یہاں کے مستقبل کے تعین کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے اور گلگت کے عوام میں اس حوالے سے بہت فکر پائی جاتی ہے۔ ماضی میں کچھ فیصلے کیے گئے جن میں ہماری عوام کی رائے کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی لیے ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ ہماری کوششیں یہی ہیں کہ قومی علاقائی اور مذہبی جماعتوں کو ملا کر ایسا راستہ نکالا جائے جس پر سب متفق ہوں۔‘

گلگت کی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ علاقہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خاصا اہم ہے۔گلگت کی سرحدیں روس، چین اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملتی ہیں۔ اور تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ خاص طور پر پاک چین اقتصادی رہداری منصوبے کی تکمیل کے لیے گلگت کا پرامن ہونا اور یہاں کے عوام کا سیاسی احساس محرومی دور ہونا انتہائی اہم ہے۔

اس مسئلے پر آج منتخب اسمبلی کوئی پیش رفت کرپائے گی؟ مستقبل میں گلگت کی سیاسی سمت اسی سے طے ہوگی۔