دیامیر میں خواتین کی ووٹنگ سے متعلق خدشات برقرار

دیامیر میں خواتین کی ووٹنگ سے متعلق خدشات برقرار ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc urdu

،تصویر کا کیپشندیامیر میں خواتین کی ووٹنگ سے متعلق خدشات برقرار ہیں
    • مصنف, ظہیرالدین بابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، داریل، دیامیر

گِلگت بلتستان میں ضلع دیامیر کی تحصیل داریل کےلیے شاہراہِ قراقرم چھوڑیں تو دریائے سندھ کے کنارے پتھروں پر لکھی ہوئی تحریریں ہزاروں سال قدیم علمی مرکز کی نشاندہی کرتی ہیں۔

شہر میں بُدھ مت کے دور کی ایک یونیورسٹی کے آثار ہیں لیکن 2015 میں یہاں لڑکیوں کا کوئی سکول نہیں اور لڑکوں کا پہلا انٹرمیڈیٹ کالج زیرِتعمیر ہے۔

داریل گذشتہ ماہ اس وقت شہ سرخیوں میں آیا جب گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی مہم شروع ہوتے ہی وہاں کے امیدواروں نے خواتین کی رائے شماری نہ کرانے کا مشترکہ فیصلہ کیا۔ اگرچہ بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیاگیا لیکن آٹھ جون کے انتخابات سر پر آنے تک علاقے میں خواتین کی ووٹنگ کے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

ریٹائرڈ بینک مینیجر محمد نسیم کے مطابق 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے لیے پہلے انتخابات کے موقعے پر داریل میں خواتین کے ایک پولنگ سٹیشن پر گولی چلی اور چار افراد مارے گئے۔ انھوں نے بتایا: ’ایک عورت ووٹ ڈالنے آئی۔ ایجنٹ نے کہہ دیا کہ منہ کھول کر آؤ، یعنی چہرے سے نقاب ہٹاؤ۔ عورت کے شوہر نے کہا کہ وہ میری بیوی ہے، تم کہہ رہے ہوں مُنہ کھولو۔ وہیں جھگڑا ہو گیا۔‘

ضلع دیامیر کی بیشتر آبادی کی طرح داریل کے لوگ بھی سخت گیر مذہبی اور قبائلی اقدار کے پیروکار ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق خواتین کے بازاروں میں نکلنے یا نامحرم سے بات کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عام رائے یہ ہے کہ خواتین ووٹ ڈالنا پسند ہی نہیں کرتیں۔

،تصویر کا ذریعہbbc urdu

داریل کے رہائشی محمد عبداللہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہاں تعلیم زیرو ہے۔ ہماری عورتیں جانتی نہیں کہ یہ (ووٹ) کیا چیز ہے۔ ہم اُنھیں زبردستی گاڑیوں میں بھر کر لائیں گے لیکن مرضی سے آ کر، حجاب سے ہٹ کر کوئی بھی عورت شوق سے ووٹ نہیں ڈالتی۔‘

ضلعی انتظامی افسر اور الیکشن کمشنر عثمان احمد داریل کے باشندوں کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔

’حقیقت یہ ہے کہ دیامیر نیم قبائلی معاشرہ ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ یہاں پر خواتین ووٹ ڈالنے نہیں نکلتیں۔‘

اُن کے بقول گذشتہ انتخابات کی نسبت اِس مرتبہ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ کر دیاگیا ہے۔ خواتین کے لیے الگ پولنگ سٹیشنوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے جہاں پر خواتین ہی سکیورٹی سمیت پورے انتخابی عمل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔

داریل کے باریش نمبردار محمد بشیر کے مطابق ’خواتین کا الگ پولنگ سٹیشن بازار میں بن رہا ہے جہاں وہ نہیں آ سکتیں۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ پولنگ سٹیشن محلوں میں بنائے جائیں تاکہ خواتین آسانی سے ووٹ ڈال سکیں۔‘

اِس کے علاوہ داریل سمیت دیامیر کی دیگر تحصیلوں چلاس اور تانگیر کے انتخابی امیدواروں کے لیے خواتین پولنگ ایجنٹ فراہم کرنے کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔

ضلعے کی چار نشستوں کے لیے 38 امیدوار میدان میں ہیں۔اِن میں کوئی خاتون نہیں۔ 21 امیدوار آزاد ہیں جبکہ باقیوں کا تعلق قومی سیاسی جماعتوں سے ہے۔ لگ بھگ نصف خواتین سمیت 93 ہزار ووٹروں کے لیے 141 پولنگ سٹیشن بنائے جا رہے ہیں جن میں سے 101 حساس قرار دیےگئے ہیں۔

ہر امیدوار کو ہر پولنگ سٹیشن کے لیے پولنگ ایجنٹ مہیا کرنے ہیں اور روایتی اقدار کی خاطر صرف خواتین پر مشتمل پولنگ سٹیشنوں کے لیے خواتین پولنگ ایجنٹ ہی درکار ہیں۔

محمد نسیم کے مطابق: ’ہمارے پاس کوئی لڑکی ہی نہیں جو اپنا نام پڑھ سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے داریل کی استانیوں کی انتخابی عملے کے طور پر ڈیوٹیاں لگا دی ہیں اور اُن کی تعداد بھی دس سے زیادہ نہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق خواتین کے بازاروں میں نکلنے یا نامحرم سے بات کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

،تصویر کا ذریعہbbc urdu

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کے مطابق خواتین کے بازاروں میں نکلنے یا نامحرم سے بات کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

داریل کی اُستانیاں وہ گنی چُنی خواتین ہیں جن کے والدین نے زیریں علاقوں کے مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجا یا پھر وہ بیاہ کر دیگر شہروں سے لائی گئیں۔ اِنہی خواتین نے گذشتہ حکومت کی ’ہوم سکول‘ سکیم کے تحت مقامی بچیوں کو گھروں میں پڑھانے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے۔

داریل کی دیہاتی وادیاں قراقرام کے پہاڑی سلسلے کی آغوش میں پھیلی ہوئی ہیں۔ شاہراہِ قراقرام سے اُترنے کے بعد چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بیرونی دنیا سے اوجھل پہلی وادی تک رسائی کے لیے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے کیونکہ پُرپیچ ہونے کے ساتھ ساتھ داریل جانے والی واحد سڑک کچی اور مخدوش حالت میں ہے۔

نمبردار محمد بشیر کی رائے ہے کہ آٹھ جون کو فوج ہی پُرامن پولنگ کرا سکتی ہے کیونکہ وہاں حکومت کی رِٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہسپتال اور بیرونی دنیا تک بہتر رسائی کے لیے سڑک کے علاوہ مقامی اقدار کے مطابق بچیوں کے باقاعدہ سکول داریل کے لوگوں کے انتخابی مطالبات ہیں۔

محمد نسیم کہتے ہیں کہ ’پردے میں خواتین کی تعلیم اور ووٹنگ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ تعلیم ہوگی تو شعور آئے گا اور خواتین بھی انتخابات لڑیں گی۔ پولنگ ایجنٹ بنیں گی۔ پولنگ افسر بنیں گی۔ ٹیچر بنیں گی۔ حکومت یہاں اچھے اچھے سکول بنائے۔‘