دیامیر:خواتین کےووٹ ڈالنے پر پابندی ختم

خواتین اور مردوں کے الگ الگ پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے: ریٹرنگ افسر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخواتین اور مردوں کے الگ الگ پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے: ریٹرنگ افسر
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے۔

داریل کے ریٹرننگ افیسر سمیع اللہ فاروق نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ داریل میں مقامی جرگے کی طرف سے اس فیصلے کے آنے کے بعد نامزد امیدواروں کو شوکاز نوٹس جاری کیےگئے تھے جس میں انھیں کہا گیا کہ اگر کوئی امیدوار اس فیصلےمیں ملوث پایا گیا تو ان کے کاغذات مسترد ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے خلاف انکوائری بھی جاری ہے۔

ریٹرننگ افیسر نے بتایا کہ امیدواروں کے ملوث ہونے کی صورت میں ان کےکاغذات مسترد کیےجائیں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائےگی۔

جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی

،تصویر کا ذریعہbbc urdu

،تصویر کا کیپشنجرگے میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی

ریٹرننگ افیسر کے مطابق جرگے میں شریک علما اور عمائدین کو بھی نوٹس جاری کیےگئے جس میں ان سے اس سلسلے میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہا گیا تھا۔ ان کے مطابق علما اور عمائدین کو مرد اور خواتین کے مشترکہ پولنگ سٹیشنوں پر اعتراض تھا اور ان کا موقف تھا کہ اس سے بے پردگی پھیلے گی۔

ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ اس سلسلے میں جرگے کے تحفظات کو دور کردیاگیا ہے اور اب خواتین اور مردوں کے الگ الگ پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ داریل میں چند دن پہلے منعقد ہونے والے ایک مقامی جرگےنے گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی کے آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر لگائی تھی اور اسے علاقائی رسم و رواج اور ثقافت کے خلاف قرار دیا تھا۔

اس علاقے سے پی ٹی ائی کے نامزدامیدوار ڈاکٹر زمان نے اس پابندی کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جرگے نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اسے قبول کرتے ہیں کیونکہ یہاں خواتین پولنگ سٹیشنوں میں خواتین سٹاف نہیں ہوتیں اور مرد بیٹھے ہوتے ہیں جو علاقائی روایات کے خلاف ہے۔

الیکشن کمیشن کےضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتوں کو خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنی ہے

،تصویر کا ذریعہbbc urdu

،تصویر کا کیپشنالیکشن کمیشن کےضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتوں کو خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنی ہے

اعداد و شمار کے مطابق داریل کے علاقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹروں کی تعداد بارہ ہزار پانچ سو پچاس ہے جس کو الیکشن میں رائے حق دہی سے محروم کردیاگیا تھا جبکہ اس سے پہلے اس علاقے میں خواتین نے ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔

دوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے جس میں سیاسی جماعتیں خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کریں گے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی انتخابی بے ضابطگی تصور ہوگی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی اور قواعد کے مطابق کارروائی ہوگی جس میں امیدوار کا نا اہل ہونا بھی شامل ہے۔