تیسری بار صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ جاری

،تصویر کا ذریعہbbc
پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کو پھانسی دینے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دی جائے گی۔
خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل میں قید صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ تیسری بار جاری کیے گئے ہیں۔
رابطہ کرنے پر مچھ جیل حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی صولت مرزا کو پھانسی دینے کے لیے ڈیتھ وارنٹ کی صورت میں تحریری حکم نامہ انھیں موصول نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ صولت مرزا نے رواں برس 18 مارچ کو اپنی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد سے چند گھنٹے قبل نشر کیے گئے ویڈیو بیان میںمتحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت جماعت کی اہم قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
یہ انٹرویو سامنے آنے کے بعد ان کی سزائے موت پر عمل درآمد 30 اپریل تک کے لیے روک دیا گیاتھا اور وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ دنوں پولیس اور خفیہ اداروں کے افسران کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مچھ جیل میں قید متحدہ قومی موومنٹ کے سابقکارکن صولت مرزا سے تفتیش کی۔
اس ٹیم کی سربراہی سندھ پولیس کے ڈی آئی جی امیر شیخ کر رہے ہیں اور اس میں پولیس کے علاوہ ملک کے خفیہ اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
صولت مرزا کو 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت قتل کرنے کے جرم میں 1999 میں پھانسی کی سزاسنائی گئی تھی اور کچھ عرصہ قبل سکیورٹی وجوہات کی بنیاد انھیں مچھ جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’الطاف حسین جو بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے اپنے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔ ان کے بقول ’ ایم کیو ایم کے کہنے پر پیپلز پارٹی کی حکومت میں انھیں جیل میں بھی سہولیات دی گئیں۔‘
صولت مرزا نے حکام سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ ان کی سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی جائے۔ ’اپیل کرتاہوں کہ میری سزا کو کچھ عرصے کے لیے آگے بڑھایا جائے۔کم سے کم اتنا وقت دیا جائے کہ مزید انکشافات کر سکوں۔‘
یہ پاکستانی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ سزائے موت کے کسی قیدی کی جانب سے ویڈیو بیان سامنے آیا جس کے نتیجے میں اس کی پھانسی بھی موخر کی گئی۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے صولت مرزا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ان کی جماعت کے خلاف سازشی منصوبے کا حصہ ہے۔







