صولت مرزا کی پھانسی مزید 30 دن موخر کرنے کی سفارش

صولت مرزا کے ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا
،تصویر کا کیپشنصولت مرزا کے ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے صدرِ مملکت سے سفارش کی ہے کہ سزائے موت کے منتظر متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کی سزا پر عمل درآمد مزید ایک ماہ کے لیے موخر کر دیا جائے۔

بلوچستان کی مچھ جیل میں قید صولت مرزا کو کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل کے مقدمے میں ڈیتھ وارنٹس کے دوبارہ اجرا کے بعد یکم اپریل کو پھانسی دی جانی تھی۔

وزیر اعظم نے جمعے کو یہ ایڈوائس وزارت داخلہ کی اس درخواست پر بھجوائی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صولت مرزا کے اس ویڈیو بیان کی تحقیقات کی جانی چاہییں جس میں اُنھوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر شاہد حامد کے قتل کی ہدایات دینے کا الزام لگایا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بیان کی تحقیقات کروانے پر متنفق ہیں لہذا صولت مرزا کی پھانسی پر عمل درآمد 90 روز کے لیے روک یا جائے تاہم وزیر اعظم نے صدر مملکت کو صولت مرزا کی پھانسی 30 دن کے لیے موخر کرنے کی سفارش کی ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر مملکت کی طرف سے جلد ہی اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا اور صولت مرزا کی پھانسی پر عمل درآمد موخر کرنے کا آغاز یکم اپریل سے ہوگا۔

ابتدائی طور پر صولت مرزا کی پھانسی کی تاریخ 19 مارچ مقرر تھی تاہم پھانسی سے چند گھنٹے قبل ان کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔

یہ بیان سامنے آنے کے بعد ان کی پھانسی ابتدائی طور پر تین دن کے لیے موخر کی گئی تاہم نئے ڈیتھ وارنٹ کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے انھیں تختۂ دار پر نہ لٹکایا جا سکا۔

24 مارچ کو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا صولت مرزا کے بیان کی تفتیش کے لیے انھوں نے وزیر اعظم سے اُن کی پھانسی پر عمل درآمد 90 روز تک موخر کرنے کی سفارش کی ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق صولت مرزا کے بیان کے تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ٹیم بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ایف آئی اے کے علاوہ پنجاب اور سندھ پولیس کے افسران کے نام بھی مانگے گئے تھے۔

اہلکار کے مطابق پولیس افسران کے نام وزارت داخلہ کو موصول ہوگئے ہیں تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ مجرم کے بیان کی تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ٹیم صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل میں جائے گی یا مجرم کو تحقیقات کے لیے کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے گا۔

صولت مرزا بلوچستان کی مچھ جیل میں قید ہیں
،تصویر کا کیپشنصولت مرزا بلوچستان کی مچھ جیل میں قید ہیں

صولت مرزا کے ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

بلوچستان حکومت نے اس سلسلے میں ایک چار رکنی کمیٹی بھی قائم کی تھی جسے اس بات کی تحقیقات کرنی تھی کہ آیا اس بیان کی ریکارڈنگ مچھ جیل میں ہوئی ہے یا نہیں۔

صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ کے دوبارہ اجرا کے بعد اس کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا گیا تھا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا پھانسی دوبارہ موخر ہونے کے بعد بلوچستان حکومت کمیٹی کی تشکیلِ نو کرے گی یا نہیں۔

صولت مرزا کو 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت قتل کرنے کے جرم میں 1999 میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس تہرے قتل کے علاوہ بھی ان کے خلاف قتل اور اقدام قتل کے متعدد مقدمات درج تھے۔

سکیورٹی وجوہات کی بنیاد انھیں گذشتہ سال اپریل میں کراچی سے بلوچستان کی مچھ جیل میں منتقل کیا گیا تھا جس پر ایم کیو ایم کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔