صولت مرزا کے نئے ڈیتھ وارنٹ کے لیے جیل حکام کی درخواست

پاکستان کے قانونی حلقے صولت مرزا کے بیان کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہYoutube

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قانونی حلقے صولت مرزا کے بیان کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ سمیت اس کی قیادت پر خوفناک الزامات لگانے والے ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کی پھانسی کے لیے مچھ جیل کے حکام نے تازہ ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے لیے درخواست دے دی ہے۔

پاکستان کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ نئے ڈیتھ وارنٹ موصول ہونے کی صورت میں صولت مرزا کی سزائے موت پر اگلے ہفتے منگل یا بدھ کے روز عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔

ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کو جمعرات کی صبح پھانسی دی جانی تھی لیکن ان کی جانب سے ایم کیو ایم اور اس کے رہنما الطاف حسین کے خلاف سنگین الزامات کی ایک وڈیو سامنے آنے کے بعد، پھانسی سے کچھ گھنٹے قبل اس پر عملدرآمد کو بہتر گھنٹے کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

ویڈیو بیان میں صولت مرزا نے الزام لگایا تھا کہ انھوں نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ایم ڈی شاہد حامد کا قتل الطاف حسین کے احکامات پر کیا تھا اور ان کو یہ احکامات سابق وزیر برائے شپنگ، بابر غوری کے گھر پر دیے گئے تھے۔

صولت مرزا نے الطاف حسین اور بابر غوری کے علاوہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور دیگر پارٹی رہنماؤں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم الطاف حسین، بابر غوری اور عشرت العباد نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

ویڈیو بیان میں صولت مرزا نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے کراچی الیکٹرک سپلائے کمپنی کے ایم ڈی شاہد حامد کا قتل الطاف حسین کے احکامات پر کیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنویڈیو بیان میں صولت مرزا نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے کراچی الیکٹرک سپلائے کمپنی کے ایم ڈی شاہد حامد کا قتل الطاف حسین کے احکامات پر کیا تھا

الطاف حسین کے مطابق یہ ان کو اور ان کی جماعت کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے اس سازش میں پاکستان کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

پاکستان کے اعلیٰ اہلکار نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ صولت مرزا کے واعدہ معاف گواہ بننے پر اس کی سزا تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ مرزا نے خود اعتراف کیا ہے اور ان کو سزا دہشت گردی کی دفعات کے تحت ہوئی ہے، اس لیے ان کی سزا میں کمی کرنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

اہلکار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور بعد میں پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے دوران ایم کیو ایم نے صولت مرزا کو مراعات فراہم کرائیں اور صولت مرزا نے جیل میں دیگر قیدیوں کو یہ بھی بتایا کہ ان کو معافی دلانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اہلکار کے مطابق لیکن جب ان کو معافی نہ مل سکی اور پھانسی ناگزیر ہوگئی تب اس نے ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘ کی مصداق اپنا بیان ریکارڈ کرانے پر آمادگی ظاہر کی۔

پاکستان کے قانونی حلقے صولت مرزا کے بیان کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس طارق محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صولت مرزا کے اس بیان کی فی الحال کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

ان کے بقول اگر مرزا کا بیان میجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا گیا یا ان کو واعدہ معاف گواہ بنایا گیا تو یہ سوال اٹھے گا کہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

صولت مرزا کا یہ ویڈیو بیان سامنے آنے کے بعد، جہاں ایم کیو ایم کے سیاسی مخالفین کو پارٹی پر کھل کر تنقید کرنے کا موقع مل رہا ہے، وہیں مبصرین کے خیال میں ایم کیو ایم پر بھی اس بات کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ اپنی جماعت میں موجود شدت پسندی پر قابو پائے۔