’صولت کی پھانسی کے التوا کی وجہ خراب صحت ہے‘

صولت مرزا کی پھانسی کو 72 گھنٹے کے لیے موخر کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہYoutube

،تصویر کا کیپشنصولت مرزا کی پھانسی کو 72 گھنٹے کے لیے موخر کر دیا گیا ہے

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مچھ جیل میں قید سزائے موت کے منتظر ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کی پھانسی ان کی صحت کی خرابی کی وجہ سے موخر کی گئی ہے۔

صولت مرزا کو جمعرات کی صبح پھانسی دی جانی تھی تاہم اس سے چند گھنٹے قبل ان کا ایک ویڈیو بیان پاکستانی ٹی وی چینلز پر نشر ہوا جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد <link type="page"><caption> الطاف حسین سمیت جماعت کی اہم قیادت پر سنگین الزامات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/03/150318_solat_mirza_mqm_tk" platform="highweb"/></link> عائد کیے گئے۔

اس بیان کے نشر ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ان کی پھانسی پر عمل درآمد بھی 72 گھنٹوں کے لیے روک دیا گیا تھا۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حکومت نے وفاقی حکومت سے صولت مرزا کی خراب صحت کی وجہ سزائے موت موخر کرنے کی درخواست کی تھی جس پر رات گئے فیصلہ ہوا۔

’ایک درخواست ہمیں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے آئی کہ ایک مجرم جسے آج صبح پھانسی لگنی تھی صولت مرزا، اور جس کے خلاف شاہد حامد کا ہی نہیں کئی اور گھناؤنے جرائم کا بھی الزام تھا۔اس کی صحت ایسی نہیں ہے کہ اسے پھانسی دی جائے، یہ فیصلہ رات گئے ہوا کہ فی الحال دونوں(صولت مرزا، شفقت حسین ) کی سزا مختلف وجوہات کی وجہ سے 72 گھنٹے موخر کی جائے۔‘

اس سے قبل مچھ جیل کے سپرٹنڈنٹ اسحاق زہری نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے پھانسی کے التوا کی تصدیق کی اور بتایا کہ انھیں بدھ کی شب احکامات موصول ہوئے ہیں کہ صولت مرزا کو مزید 72 گھنٹے تک پھانسی نہ دی جائے۔

صولت مرزا کی پھانسی روکنے کے حکم نامے کا عکس
،تصویر کا کیپشنصولت مرزا کی پھانسی روکنے کے حکم نامے کا عکس

صولت مرزا کے بیان کی ریکارڈنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انٹرویو اس جیل میں ریکارڈ نہیں ہوا ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ کہاں ریکارڈ ہوا کیونکہ صولت مچھ سے پہلے بھی کئی جیلوں میں رہ چکا ہے۔‘

ایم کیو ایم پر الزامات

ویڈیو پیغام میں صولت مرزا نے خود کو نشانِ عبرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ تنظیم کے کام کے نہیں رہتے ان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایم کیو ایم میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والے اور نئے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ انھیں ’دیکھیں اور عبرت پکڑیں کہ کس طرح انھیں استعمال کر کے ٹشو پیپرکی طرح پھینک دیا گیا۔‘

صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’الطاف حسین جو بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘

بلوچستان کی حکومت نے وفاقی حکومت سے صولت مرزا کی خراب صحت کی وجہ سزائے موت موخر کرنے کی درخواست کی تھی جس پر رات گئے فیصلہ ہوا: چوہدری نثار

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کی حکومت نے وفاقی حکومت سے صولت مرزا کی خراب صحت کی وجہ سزائے موت موخر کرنے کی درخواست کی تھی جس پر رات گئے فیصلہ ہوا: چوہدری نثار

صولت مرزا نے حکام سے اپیل کی تھی کہ ان کی سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی جائے تاکہ وہ مزید انکشاف کر سکیں اور ان کے ’ایسے بہت سے ساتھی ہیں جو ملک کے اندر اور باہر اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ایم کیو ایم نے ان سے کیا کروایا۔ وہ خوف کی وجہ سے اعتراف نہیں کر رہے۔‘

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا ردعمل

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے صولت مرزا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ان کی جماعت کے خلاف سازشی منصوبے کا حصہ ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے اس طرح کا بیان ایم کیوایم کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی سازش ہے۔

نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہو ئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ صولت مرزا کے بیان سے ایم کیو ایم کے ان کارکنوں کے ذہن تبدیل نہیں کیا جا سکتے جنھوں نے’صعوبتیں برداشت کی ہیں اور جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بھی جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں صولت مرزا کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے انھیں جیل میں کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم کی گئی۔

’پچھلے پانچ سال کی بھی بات کر رہا ہوں اور اس دور کی بھی بات کر رہا ہوں، جو بھی اس طرح کے خطرناک مجرم تھے، اجمل پہاڑی کو سکھر جیل منتقل کیا گیا اور صولت مرزا جو اس وقت مچھ جیل میں موجود ہے تو وہ بھی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ہی منتقل کیا تھا۔ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت انھیں کوئی سہولت فراہم کر رہی تھی تو انھیں دور دراز جیل منتقل نہ کرتی۔‘