صولت مرزا کی پھانسی 30 اپریل تک مؤخر

 صولت مرزا کو یکم اپریل کو پھانسی دینے کے لیے دوسری مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے تھے
،تصویر کا کیپشن صولت مرزا کو یکم اپریل کو پھانسی دینے کے لیے دوسری مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے تھے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل میں قید سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کی سزائے موت پر عمل درآمد کو 30 اپریل تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

مچھ جیل کے سپرٹینڈنٹ اسحاق زہری نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے کی تصدیق کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ‘آج (پیر کو) مزید 30 دن کے لیے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کرنے کے احکامات جیل انتظامیہ موصول ہوچکے ہیں۔‘

اس سے قبل صولت مرزا کو یکم اپریل کو پھانسی دینے کے لیے دوسری مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے صدرِ مملکت سے سفارش کی تھی کہ صولت مرزا کی سزا پر عمل درآمد مزید ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

وزیر اعظم کو یہ ایڈوائس وزارت داخلہ کی اس درخواست پر بھجوائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صولت مرزا کے اس ویڈیو بیان کی تحقیقات کی جانی چاہییں جس میں اُنھوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر شاہد حامد کے قتل کی ہدایات دینے کا الزام لگایا تھا۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کو 19 مارچ کی صبح پھانسی دی جانی تھی لیکن ان کی جانب سے ایم کیو ایم اور اس کے رہنما الطاف حسین کے خلاف سنگین الزامات کی ایک وڈیو سامنے آنے کے بعد پھانسی سے کچھ گھنٹے قبل اس پر عمل درآمد کو 72 گھنٹے کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔

اسی روز پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے اقومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ صولت مرزا کی پھانسی ان کی صحت کی خرابی کی وجہ سے موخر کی گئی تھی۔