تحقیقاتی ٹیم کی مچھ جیل میں صولت مرزا سے تفتیش

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پولیس اور خفیہ اداروں کے افسران کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مچھ جیل میں قید متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا سے تفتیش کی ہے۔
اس ٹیم کی سربراہی سندھ پولیس کے ڈی آئی جی امیر شیخ کر رہے ہیں اور اس میں پولیس کے علاوہ ملک کے خفیہ اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
صولت مرزا نے رواں برس 18 مارچ کو اپنی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد سے چند گھنٹے قبل نشر کیے گئے ویڈیو بیان میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت جماعت کی اہم قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
یہ انٹرویو سامنے آنے کے بعد ان کی سزائے موت پر عمل درآمد 30 اپریل تک کے لیے روک دیا گیا تھا اور وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔
سندھ حکومت نے ڈی آئی جی منیر شیخ کی سربراہی میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی تھی، جس میں ایس ایس پی سی ٹی ڈی، ایس پی اسپیشل برانچ اور آئی بی ، آئی ایس آئی کے نمائندوں سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔
صولت مرزا کو 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت قتل کرنے کے جرم میں 1999 میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور کچھ عرصہ قبل سکیورٹی وجوہات کی بنیاد انھیں مچھ جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔
پھانسی کی شب پاکستان کے نیوز چینلز نے صولت مرزا کا ایک ویڈیو پیغام نشر کیا تھا، جس میں صولت مرزا نے خود کو نشانِ عبرت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایم کیو ایم میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والے اور نئے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ انھیں ’دیکھیں اور عبرت پکڑیں کہ کس طرح انھیں استعمال کر کے ٹشو پیپرکی طرح پھینک دیا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’الطاف حسین جو بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے اپنے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔ ان کے بقول ’ ایم کیو ایم کے کہنے پر پیپلز پارٹی کی حکومت میں انھیں جیل میں بھی سہولیات دی گئیں۔‘
صولت مرزا نے حکام سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ ان کی سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی جائے۔ ’اپیل کرتاہوں کہ میری سزا کو کچھ عرصے کے لیے آگے بڑھایا جائے۔کم سے کم اتنا وقت دیا جائے کہ مزید انکشافات کر سکوں۔‘
یہ پاکستانی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ سزائے موت کے کسی قیدی کی جانب سے ویڈیو بیان سامنے آیا جس کے نتیجے میں اس کی پھانسی بھی موخر کی گئی۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے صولت مرزا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ان کی جماعت کے خلاف سازشی منصوبے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے اس طرح کا بیان ایم کیوایم کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی سازش ہے۔







