مانسہرہ میں لڑکی کے ریپ پر قاری سمیت تین کو قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں کالج کی ایک طالبہ سے ریپ کے مقدمے میں مقامی مدرسے کے قاری اور ان کے دو ساتھیوں کو قید کی سزا سنائی ہے تاہم ان کی معاونت کے الزام میں گرفتار ایک خاتون کو بری کر دیا گیا ہے۔
مانسہرہ پولیس کے ڈی ایس پی ذوالفقار جدون نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جمعرات کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس کی سماعت کی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ چار میں سے تین ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی اور ’قاری نصیر اور فیضان کو 14، 14 سال کی قید ہوئی ہے جبکہ حسین مشتاق کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔‘
ذوالفقار جدون نے بتایا کہ ان تینوں کی ساتھی ملزمہ انعم کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ ’اس کا اتنا ہی کام تھا کہ وہ زیادتی کا شکار بننے والی لڑکی کو ساتھ لے کر گئی تھی‘ تاہم متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
ڈی ایس پی مانسہرہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 12 مئی کو پیش آنے والے اس واقعے میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کے دوران گواہوں کو پیش کیے جانے کے بعد 15 دن کے اندر مجرموں کو سزا سنائی گئی۔
یاد رہے کہ 12 مئی 2014 کو دن دیہاڑے چلتی ہوئی گاڑی میں ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے دیے جانے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ مقامی کالج میں انٹرمیڈیٹ کے آخری پرچے کے بعد ایک انعم نامی طالبہ نےاپنی دوست متاثرہ لڑکی سے کہا کہ وہ کچھ مرد دوستوں کے ساتھ گاڑی میں مستی کرنے جائیں گے تم بھی ساتھ آؤ لیکن متاثرہ لڑکی نے انکار کر دیا اور کہا کہ اسے گھر کے سامنے اتار دیا جائے۔
اس گاڑی میں ایک دینی مدرسے کے قاری سمیت تین افراد آئے اور دونوں لڑکیوں کو ساتھ لے گئے جہاں پولیس کے مطابق طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







