مسجد میں ریپ کرنے والے امام کو 20 سال قید

افغانستان میں ریپ کے مقدمے میں اس نوعیت کا فیصلہ غیر معمولی ہے جہاں مبصرین کے مطابق ریپ کے حوالے سے قوانین نہ ہونے کے برابر ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں ریپ کے مقدمے میں اس نوعیت کا فیصلہ غیر معمولی ہے جہاں مبصرین کے مطابق ریپ کے حوالے سے قوانین نہ ہونے کے برابر ہیں

افغانستان میں ایک امام مسجد کو ایک دس سالہ لڑکی کا ریپ کرنے کے جرم میں بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ملا محمد امین جن کا تعلق افغان صوبے کُندوز سے ہے جہاں اُس نے گذشتہ سال مئی میں اس دس سالہ بچی کا مسجد میں ریپ کیا۔

اس واقعے کے فوری بعد مقامی پولیس کے مطابق ایسے خدشات تھے کہ بچی کا خاندان اپنی عزت کی خاطر بچی کو مار ڈالے گا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے مداخلت کر کے اس معاملے کو عدالت تک پہنچایا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس خاندان کو عدالت میں آنے پر آمادہ کیا اور ان کے آنے جانے اور کابل میں رہائش کے اخراجات بھی برداشت کیے۔

نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار روڈ نورڈ لینڈ جو عدالت میں موجود تھے کے مطابق، ملا کے خلاف مقدمے کی کارروائی سینیچر کو اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کر گئی جب بچی نے روتے اور کانپتے ہوئے خود عدالت کے سامنے پیش ہو کر ملزم کا سامنا کیا۔

اسی سال پغمان ضلعے میں 5 افراد پر اگست کے مہینے میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد کابل لوٹنے والی چار خواتین کو اغواء کر کے ریپ کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی تھی جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناسی سال پغمان ضلعے میں 5 افراد پر اگست کے مہینے میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد کابل لوٹنے والی چار خواتین کو اغواء کر کے ریپ کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی تھی جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا

عدالت کی جانب سے 20 سال قید کی سزا پر لڑکی ان کے والد اور چچا نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملا محمد امین کو سزائے موت دی جانی چاہیے تھی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ملا امین کو کمر تک زنجیروں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا جس سے تقریباً 6 فٹ کے فاصلے پر لڑکی نشست پر بیٹھی ہوئی تھی۔

لڑکی نے اپنے چہرے کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھانپا ہوا تھا اور انہوں نے زاروقطار روتے ہوئے اپنا بیان دیا۔

اگرچہ سرکاری وکیل مجاہد رائدن نے ملا کی جانب سے اقبالی بیان پڑھ کر سنایا مگر ملا امین نے اپنے دفاع میں بولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لڑکی نے انہیں ورغلایا جس پر لڑکی نے رونا بند کیا اور ڈرامائی انداز میں اپنا نقاب ہٹا کر ملا کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’او جھوٹے، جھوٹے خدا تم سے نفرت کرتا ہے تم غلیظ ہو، گندے ہو تم، تم ایک شیطان ہو۔‘

یاد رہے کہ اس قبل کندوز میں سرکردہ علما اور حکام نے لڑکی کی عمر کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی عمر 17 سال کے قریب ہے مگر ان کی والدہ کے مطابق ان کی عمر 10 جبکہ میڈیکل ایگزامنر نے ان کی عمر کو اندازاً 10 سے 11 سال بتایا ہے۔

جج محمد سلیمان رسولی نے کہا کہ ملا امین کی جانب سے لڑکی کے ساتھ ریپ کا اعتراف زنا کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ لڑکی کی عمر بہت کم ہے اور انہوں نے ملا امین کے وکلا ی جانب سے 100 کوڑوں کی سزا دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو پھر لڑکی کو بھی 100 کوڑے مارنے کی سزا دی جانی چاہیے۔

تاہم جج نے وکلا کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’لڑکی زنا نہیں کر سکتی وہ ابھی بچی ہے یہ ریپ ہے۔‘

افغانستان میں بہت کم خواتین ریپ کے مقدمات کی پیروی کرتی ہیں کیونکہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ متاثرہ خاتون ہی کو زناء کا مجرم قرار دے دیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں بہت کم خواتین ریپ کے مقدمات کی پیروی کرتی ہیں کیونکہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ متاثرہ خاتون ہی کو زناء کا مجرم قرار دے دیا جاتا ہے

وکیل استغاثہ نے لڑکی کو ایک گواہ کے طور پر نہی بلایا تھا مگر انہوں نے اسرار کیا کہ انہیں سنا جائے۔

اپنے بیان کے بعد انہوں نے جج سے مطالبہ کیا کہ ’براہِ کرم جج صاحب اسے پھانسی دیں۔‘

لڑکی کے چچا محمد رسول نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’اس کا ریپ کیا گیا اور وہ ایک بچی ہے اگر ہم اسے مار دیتے تو قیامت کے دن ہم خدا کو کیا جواب دیتے؟‘

جہاں بہت سے انسانی حقوق کے کارکن اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں اور اس کا موازنے پغمان کیس سے کرتے ہیں جس میں پانچ افراد کو سزائے موت دی گئی تھی وہیں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افغان قانون کے تحت ریپ کی سزا موت نہیں اور پغمان کیس میں مجرموں کو مسلح ڈاکے پر سزائے موت دی گئی تھی جس کی سزا قانون میں موت ہے۔

یاد رہے کہ 2009 میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے بل کی منظوری سے قبل ریپ افغان قانون کے مطابق ایک جرم نہیں تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیاد رہے کہ 2009 میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے بل کی منظوری سے قبل ریپ افغان قانون کے مطابق ایک جرم نہیں تھا

مقدمے کی کارروائی کے دوران لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کا جانب ایک بار بھی نہیں دیکھا اور اختتام پر انہوں نے اپنا منہ پھیرا اور چلے گئے جن کے پیچھے پیچھے لڑکی نے چلنا شروع کیا جہاں ملا امین زنجیروں میں جکڑا اپنی آنکھیں زمین پر ٹکائے کھڑا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق، افغانستان کی عدالت کا ملا کو سزا دینا انتہائی غیر معمولی ہے کیونکہ وہاں اکثر اوقات، متاثرہ خاتون ہی زناء مجرم قرار دے دی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ 2009 میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے بل کی منظوری سے قبل ریپ افغان قانون کے مطابق ایک جرم نہیں تھا۔