انگلینڈ اور ویلز میں ریپ میں 29 فیصد اضافہ

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنریپ میں اضافے کی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ اب متاثرین خاموش نہیں رہتے بلکہ پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں

پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں رپورٹ کیے گئے ریپ کے جرائم میں حد درجے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس (او این ایس) کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اس سال جون تک 22,116 ریپ کے کیسز ریکارڈ کیے گئے جو کہ گذشتہ سال سے 29 فیصد زیادہ ہیں۔

اس اضافے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ماضی کی نسبت اب زیادہ تعداد میں متاثرہ افراد رپورٹ کرنے لگے ہیں۔

اگرچہ کرائم سروے فار انگلینڈ اینڈ ویلز کے مطابق مجموعی طور پر جرائم میں 16 فیصد کمی آئی ہے جو کہ 1981 کے بعد سے لے کر اب تک سب سے کم ہے۔ یہ سروے 1981 میں ہی شروع کیا گیا تھا۔

انسدادِ جرائم کے وزیر نارمن بیکر کہتے ہیں کہ اب مبینہ متاثرین سامنے آنے کے لیے راضی ہو رہے ہیں۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق فوجی لی رگبی کے قتل کے بعد نفرت کے جرائم میں اضافہ ہوا ہے

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس طرح کے گھناؤنے جرائم کو پولیس میں ریکارڈ کرنے کے نظام کو بہتر بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم اس میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘

او این ایس کے اعداد و شمار میں چاقو دکھا کے ریپ کرنے کے واقعات میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ 199 سے بڑھ کر اب 294 ہو گئے ہیں۔

مجموعی طور پر پولیس میں ریکارڈ کیے گئے جرائم مستحکم ہیں اگرچہ فراڈ اور شاپ لفٹنگ یا دکانوں میں چوری کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں۔

نفرت کے جرائم کے واقعات میں بھی پانچ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو گذشتہ سال کے 42,236 سے بڑھ کر اب 44,480 ہو گئے ہیں۔

نسل کی وجہ سے نفرت کے جرائم چار فیصد جبکہ مذہبی نفرت کے جرائم 45 فیصد بڑھے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ماہرین سمجھتے ہیں کہ گذشتہ برس مئی میں فوجی لی رگبی کا قتل نفرت کے جرائم میں انتہائی اضافے کا سبب بنا ہے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے اعداد و شمار میں سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ شامل نہیں ہیں۔