برطانیہ میں والدین کے ساتھ رہنے کے رجحان میں اضافہ

برطانیہ میں ایک سرکاری سروے کے مطابق ملک کے ایک چوتھائی جوان افراد اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
برطانیہ کے ادارہ برائے قومی شماریات ’او این ایس‘ کے مطابق 2013 میں 20 سال سے 34 سال کی عمر کے 33 لاکھ افراد اپنے والدین کے گھروں میں مقیم تھے۔
ادارے کے مطابق یہ 20 سے 34 سال کے افراد کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ بنتا ہے اور 1996 کے مقابلے میں اس میں ایک چوتھائی، یا چھ لاکھ 69 ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے۔
او این ایس کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں ملک میں 20 سے 34 سال کے عمر کے افراد کی آبادی تقریباً ایک جتنی رہی۔
1996 کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسی عمر کے 27 لاکھ افراد والدین کے ساتھ رہائش پذیر تھے اور یہ شرح اس وقت 21 فیصد بنتی تھی۔
او این ایس کے مطابق خواتین کے مقابلے میں جوان مرد والدین کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں، اور پانچ میں سے تین جوان مرد، جب کہ پانچ میں ایک خاتون والدین کے ساتھ رہتی ہے۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں سب سے کم جوان مرد یعنی 22 فیصد اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں، جب کہ شمالی آئرلینڈ میں 36 فیصد اور اس کے بعد مڈلینڈز میں 29 فیصد اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔
او این ایس کے مطابق شمالی آئرلینڈ کے رقبے کی وجہ سے برطانیہ کے دیگر علاقوں کی مقابلے میں یہ زیادہ آسان ہے کہ لوگ نوکری یا یونیورسٹی گاڑی پر جائیں اور والدین کے ساتھ رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
او این ایس کے مطابق حالیہ معاشی بحران والدین کے ساتھ رہنے کے رجحان میں اضافے کا سبب ہو سکتا ہے۔
ادارے کی سینیئر محقق کیرن گیسک کے مطابق: ’میرے خیال میں اس کی اہم وجہ رہائشی اخراجات ہیں، اور سروے میں شامل کئی اداروں نے کہا ہے کہ جوان افراد کے لیے رہائش حاصل کرنا مشکل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPA
2013 میں 20 سال کی عمر کے 65 فیصد مرد اور 52 فیصد خواتین اپنے گھروں میں رہتے تھے۔
34 سال کی عمر میں اس شرح میں کمی آئی ہے اور آٹھ فیصد مرد اور تین فیصد خواتین اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔
اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر جوان لوگوں میں سے 13 فیصد بے روزگار تھے۔







