برطانیہ 2030 تک ’یورپ کی سب سے بڑی معیشت‘

ٹینک سی ای بی آر کے مطابق برطانوی معیشت میں تیزی کی بڑی وجہ اس کی آبادی میں نسبتاً زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے
،تصویر کا کیپشنٹینک سی ای بی آر کے مطابق برطانوی معیشت میں تیزی کی بڑی وجہ اس کی آبادی میں نسبتاً زیادہ تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے

ایک برطانوی تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ برطانیہ 2030 میں جرمنی کو، جب کہ چین 2028 میں امریکہ کو معاشی میدان میں پیچھے چھوڑ دے گا۔

تھنک ٹینک سی ای بی آر کے مطابق برطانوی معیشت میں تیزی کی بڑی وجہ اس کی آبادی میں نسبتاً زیادہ سرعت سے ہونے والا اضافہ ہے۔

یہ پیشن گوئی حال ہی میں برطانوی معیشت کے بارے میں آنے والی دوسری ایسی ہی مثبت رپورٹوں کی تائید کرتی ہے، جن میں برطانوی چیمبر آف کامرس کی رپورٹ بھی شامل ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں برطانوی چیمبر آف کامرس نے کہا تھا کہ برطانیہ کی معیشت 2014 میں مالی بحران سے قبل کی سطح سے آگے نکل جائے گی۔

سی ای بی آر نے اپنا سالانہ عالمی معاشی شماریاتی جائزہ جاری کیا ہے جس میں عالمی معیشتوں کے اتار چڑھاؤ کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین 2028 میں امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔ دوسرے ماہرین کے مطابق چین اس سال سے پہلے ہی امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

سی ای بی آر کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی کارکردگی ترقی ممالک میں دوسرے نمبر پر ہو گی۔ تاہم یہ معاشی کارکردگی بھارت اور برازیل جیسے ترقی پذیر ملکوں کی معاشی شرحِ نمو سے کہیں کم ہو گی۔

سی ای بی آر نے مزید کہا ہے کہ آبادی میں اضافے کے علاوہ برطانوی معیشت کے پھیلاؤ کی ایک اور وجہ ’دوسرے یورپی ملکوں پر کم انحصار، اور دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے پر کم ٹیکس ہیں۔‘

تاہم تھنک ٹینک نے کہا کہ اگر یورپی یونین ٹوٹ گئی تو جرمنی کہیں زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔

ادارے نے فرانس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ مغربی ممالک میں بدترین کارکردگی دکھانے والے ملکوں میں سے ایک ہو گا اور برطانیہ 2018 میں اس سے آگے نکل جائے گا۔

اس کی وجہ سی ای بی آر نے زیادہ ٹیکس اور یورو زون کے مسائل بتائی ہے۔