’توہینِ رسالت کے ملزم کے وکیل کو دھمکیاں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے شہر ملتان میں توہین رسالت کے ایک ملزم کی وکالت کرنے والے وکیل شہباز گرمانی کے مطابق انھیں ہراساں کرنے کے لیے نہ صرف ان کے گھر کے قریب ہوائی فائرنگ کی گئی بلکہ انھیں دھمکی آمیر خط بھی موصول ہوا ہے۔
شہباز گرمانی کے بقول ’خط بھیجنے والوں نے اپنا تعلق دولت اسلامیہ سے بتایا ہے۔‘
وکیل شہباز گرمانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل ساڑھے نو بجے ان کے گھر سے تقریباً 40 قدم دور ایک خالی پلاٹ میں مٹیلیک رنگ کی اسلام آباد نمبر کی ایک ٹیوٹا کار آ کر روکی۔
ان کے مطابق گاڑی میں چار آدمی سوار تھے۔ ایک آدمی باہر نکلا اور اس نے ہوا میں چار گولیاں فائر کیں جس کے بعد گاڑی روانہ ہو گئی۔ وکیل شہباز گرمانی گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ تفصیلات انھیں بھائی سے ملی۔
خیال رہے اسی مقدمے میں جنید حفیظ کی پیروای کرنے والے معروف سماجی کارکن اور وکیل راشد رحمان کو جان لیوا دھمکیاں ملی اور پھر چند ماہ پہلے انھیں قتل کر دیا گیا۔ نامعلوم افراد ملتان میں واقع ان کے دفتر میں گسے اور ان پر فائرنگ کر دی۔ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔شہباز گرمانی کے مطابق انھوں نے اس واقعہ کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا مگر گذشتہ رات انھیں ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا۔
خط میں انھیں کہا گیا’ان کے ساتھ بھی راشد رحمان والا سلوک کیا جائے گا۔ اگر تم نے توہین رسالت کے ملزم جنید کی وکالت کی یا اس طرح کا کوئی بھی مقدمہ لڑا تو تمہارا سر قلم کر دیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل شہاز گرمانی نے ایک عدالت میں درخواست دے رکھی ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ چلایا جائے۔
وکیل کا موقف ہے کہ ان کا اسلام آباد میں جاری دھرنے والوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ احتجاج نہیں بلکہ شام غریبہ جیسا ماتم کر رہے ہیں، توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔
شہباز گرمانی کو موصول ہونے والے خط میں انھیں مولانا فضل الرحمان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ نہ چلانے کی تلقین کی گئی ہے اور کہا گیا ہے ’اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم جنید حفیط کا مقدمہ لڑ کر یا مولانا فضل الرحمان کے خلاف مقدمہ چلا کر ہمیں مات دے دو گے تو یہ فائرنگ اسی لیے کی گئی ہے کہ تم سمجھ لو کہ ہمیں تمھارے ہر ٹھکانہ کا پتہ ہے‘۔
شہباز گرمانی کے مطابق وہ پہلے ہی احتیاط کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز گھر راستہ بدل بدل کر جاتے ہیں۔ انھیں پنجاب پولیس کی جانب سے ایک گارڈ بھی مہیا کیا گیا ہے۔
سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پولیس نے انھیں جمعرات کو جنید حفیظ کے مقدمہ کی سماعت کے لیے گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ وہ پورا دن گھر سے باہر نہیں نکلے۔
سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ملتان سینٹر جیل میں جنید کے خلاف ہونے والی سماعت کو 13 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیاہے۔







