’کل کوئی بھی ہوسکتا ہے، میں بھی ہو سکتی ہوں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان کے سرگرم کارکن اور توہین مذہب کے ملزم کے وکیل راشد رحمان کے قتل کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں وکلا تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے احتجاج کیا۔
دو دن قبل ملتان میں دو نامعلوم افراد نے راشد رحمان کے دفتر میں گھس کر انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ راشد رحمان توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک پروفیسر کی وکالت کر رہے تھے، اور مقدمے کے دوران انھیں عدالت میں دھمکیاں دی گئی تھیں۔
سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اسلام آباد کے دفتر میں راشد رحمان کی یاد میں تعزیتی تقریب ہوئی جس میں شرکا نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ جس جج کے سامنے راشد رحمان کو قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں اس نے راشد رحمان کے تحفظ کے لیے کیوں کوئی اقدام نہیں کیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے دس اپریل کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں راشد رحمان کو کمرۂ عدالت میں جج کے سامنے دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس تعزیتی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ثمر من اللہ نے کہا کہ راشد رحمان کے قتل سے ملک بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کل انھیں بھی اسی طرح ہلاک کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’یہ کل کوئی بھی ہو سکتا ہے، میں بھی ہو سکتی ہوں۔‘
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی 30 تنظیموں کے اتحاد انسانی حقوق اتحاد نے اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں راشد رحمان کے قتل پر احتجاج کیا اور اس موقعے پر شمعیں جلائی گئیں۔
ایچ آر سی پی کی چیئر پرسن زہرہ یوسف نے ایک بیان میں کہا کہ راشد رحمان نے توہینِ مذہب کے ایک ملزم کا دفاع کرنے کا فیصلہ ایک ایسے معاشرے میں کیا جہاں انتہا پسند لوگوں سمجھتے ہیں کہ توہین مذہب کے ملزمان کو دفاع کا کوئی حق نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور میں بھی ایچ آر سی پی نے راشد رحمان کے قتل پر احتجاج کے لیے ایک تقریب منعقد کی جس میں ایچ آر سی پی کے ڈائریکٹر حسین نقی نے کہا کہ وکلا توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کے مقدمات کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ جن تین افراد نے راشد رحمان کو دھمکی دی تھی ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور توہین رسالت کے ملزموں کی پیروی کرنے والے وکلا کو تحفظ فراہم کیا جائے۔







