خاموش رہو!

پاکستان میں ماضی میں توہینِ رسالت کے قانون کے استعمال پر سوال اٹھتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ماضی میں توہینِ رسالت کے قانون کے استعمال پر سوال اٹھتے رہے ہیں
    • مصنف, محمد حنیف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

خاموشی بہتر ہے۔ بولنے سے کیا ہو گا، بولو گے، گولی کھاؤگے، مرو گے یا ہو سکتا ہے بچ جاؤ۔ مرگئے تو پِھر بھی آسانی ہے۔ ایک کالم کی خبر بنو گے، ٹی وی پر ڈیڑھ لائن کا ٹِکر چلے گا۔ فیس بک پر فاتحہ پڑھی جائے گی، ٹوئٹر والے ہیرو کہیں گے۔

کوئی جوانی کی تصویر ڈھونڈ کر لگائے گا، کوئی آپ سے آخری ملاقات کا حال سُنائے گا۔ کہے گا کیا بہادر آدمی تھا، اِس ملک کے پسے ہوئے طبقوں کی آخری امید تھا۔ پھر اِس آخری امید کو نہلا کر کفن پہنائیں گے، مٹی کے نیچے دبائیں گے پھر گھر آ کر کہیں گے کیا ضرورت پڑی تھی بات کرنے کی۔ باقی سب بھی تو خاموش ہیں تو کیا اُن کے سینوں میں دل نہیں ہے اور بات کرنی ہی تھی تو بات کرنے کے اور بھی تو سو طریقے ہو سکتے ہیں۔

اب کِسی نے گستاخی کی تو سزا تو مِلے گی۔ خدا جانے اور گستاخ جانے۔ آپ کدھر سے مقدمہ لڑنے چل پڑے اور فرض کریں آپ مقدمہ جیت بھی جاتے تو یہ مبینہ گستاخ رسول کہاں جاتا؟ ایسا الزام لگنے کے بعد کِسی شخص کو اس ملک کی سڑکوں پر چلتے پھرتے دیکھا ہے؟

تو اِسی لیے سب جانتے ہیں کہ خاموشی بہتر ہے۔ کیونکہ بولو گے تو گولی کھاؤ گے اور اگر گولی کھا کر نہ بھی مرے تو ساری عمر شرمندہ شرمندہ پھرو گے۔ اِن سوالوں کے جواب کیسے دو گے کہ کیا ہمارے مجاہدوں کا نشانہ اتنا ہی کچا ہے کہ تمہارے سر پر گولی نہ مار سکے۔ کیا ہماری اِنٹیلی جنس ایجنسیاں اِتنی نالائق ہیں کہ مل کر ایک بندے کو نہیں مار سکتیں۔

یا تو ملک چھوڑ کر بھاگو گے یا باقی عمر پولیس کے نرغے میں گزارو گے۔ خوامخواہ اُن بچاروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈالو گے۔ اپنے حق میں ایمان والوں سے فتوے ڈھونڈتے پھرو گے ، حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ تلاش کرو گے۔ چیخو گے کہ میں لبرل نہیں ہوں، سیکولر کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ میں نے سب کے لیے انصاف کی بات کی تھی صرف شیعہ، بلوچ ، احمدی اور اِس طرح کے دوسرے گستاخوں کے لیے نہیں۔

کہو گے کہ میں تو اِنسانیت کی بات کر رہا تھا، کیا ہمارا دین انسانیت کی بات نہیں کرتا۔ ساری عمر صفائیاں دیتے پھرو گے اور پھر بھی لوگ کہیں گے کہ دیکھو بولنے کا بہت شوق ہے کتنی گولیاں لگی تھیں چار یا چھ۔ پھر بھی خاموش نہیں ہوا۔

ملتان میں قتل ہونے والے راشد رحمان تضحیکِ مذہب کے مقدمے میں وکیلِ صفائی تھے
،تصویر کا کیپشنملتان میں قتل ہونے والے راشد رحمان تضحیکِ مذہب کے مقدمے میں وکیلِ صفائی تھے

خاموشی بہتر ہے۔

اگر بہت زیادہ بولنے کو دل کرے تو کوئی آس پاس ہو گا اُس کے کان میں چپکے سے کہہ دیا کرو۔ ٹیکسٹ میسج پر آنے والا لطیفہ پڑھ کر ہنس لیا کرو پھر آگے بھیج دیا کرو۔ بیٹھ کر آرام سے آئی پی ایل دیکھا کرو، پھر سر ہلا کر کہا کرو کیا یہ ملک اِسی لیے بنا تھا؟ لیکن بہتر یہی ہو گا کہ خاموش رہو۔

کِتنی حدیثوں میں خاموشی کی فضیلت بیان کی گئی ہے، کتنے ہی انگریزی اور اُردو محاوروں میں خاموشی کی شان بیان کی گئی ہے۔ گوتم بُدھ سے لے کر مولانا شفیع اوکاڑوی تک کتنے ہی بزرگوں نے خاموشی کے فضائل بیان کیے ہیں۔

بڑا مسئلہ ہے Noise Pollution اب تو ویسے بھی ہمارے شہروں میں، منہ کھول کر اس میں اضافہ کیوں کرتے ہو۔

پس ثابت ہوا کہ خاموش رہو اس سے پہلے کہ تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے۔