’جج نے راشد رحمان کو ملنے والی دھمکیوں کا نوٹس نہیں لیا‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملتان میں ہلاک کیے جانے والے وکیل راشد رحمان کو دھمکیاں دینے والے افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
راشد رحمان کو بدھ کی شب ان کے چیمبر میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور پاکستان کے وکلا کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے اس واقعے کے خلاف نو مئی کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا یا کوئی بامعنی کارروائی نہیں کی جاتی تو یہ انسانی حقوق کی تحریک اور راشد رحمان مرحوم کے اہل خانہ کے لیے انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ راشد رحمان انسانی حقوق کے پرعزم کارکن اور پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور ایچ آر سی پی کے ساتھ تقریباً 20 سال سے وابستہ تھے۔
ایچ آر سی پی نے مزید کہا کہ یہ امر قابل توجہ ہے کہ دس اپریل کو کمیشن نے ایک بیان کے ذریعے حکام کو آگاہ کیا تھا کہ ملتان ڈسٹرکٹ جیل میں، جہاں راشد رحمان توہینِ مذہب کے ایک ملزم کی وکالت کر رہے تھے، انھیں وکلائے استغاثہ کی طرف سے دھمکیاں دی گئی تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد نے یہ دھمکیاں اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج کے سامنے دی تھیں لیکن اُنھوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
دوسری طرف راشد رحمان کے قتل کے بعد ملتان میں مقامی وکلا کو کچھ پمفلٹ بھیجے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ راشد رحمان نے توہین مذہب کے ایک ملزم کو بچانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
اس پمفلٹ میں وکلا کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس ایس پی آپریشن ملتان شوکت عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایسے کسی بھی پمفلٹ سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے پمفلٹ سے متعلق کسی نے بھی پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔
پاکستان کے وکلا کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے راشد رحمان کے قتل کے خلاف نو مئی کو احتجاج کا اعلان کیا ہے جس میں عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے خلاف احتجاجی اجلاس متعلقہ بار ایسوسی ایشنز کے دفاتر میں ہی ہوں گے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد رمضان چوہدری کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں راشد رحمان کے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ راشد رحمان کو محض اس لیے گولی کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ توہین مذہب کے مقدمے میں ملزم کی وکالت کر رہے تھے۔
رمضان چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور شدت پسند مذہبی عناصر کی جانب سے وکلا کو نشانے بنانے کا بڑھتا ہوا رجحان شدید عدم برداشت نشاندہی کرتا ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔
وکیل راشد رحمان خان کے قتل کے واقعے پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی رکن راشدہ رحمانی نے ملک میں امن و امان کی صورت حال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے راشد رحمان کے قتل کے واقعہ کا ذکر کیا تاہم اس کے بعد کسی حکومتی یا حزب مخالف کے کسی بھی رکن اسمبلی نے اس واقعے پر بات نہیں کی۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ریاست اور سیاست دانوں نے نام نہاد مذہب کے نام پر بنائی جانے والی تنظیموں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے بعد اُنھیں اتنا مضبوط کردیا ہے کہ اگر کوئی اُن سے اختلاف رائے بھی رکھتا ہے تو گولی اُس کا مقدر بن جاتی ہے۔







