پاکستان میں ایبولا کا پہلا مشتبہ کیس

مشتبہ شخص لائبیریا سے آ رہا تھا اور اسے جناح ہسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنمشتبہ شخص لائبیریا سے آ رہا تھا اور اسے جناح ہسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مسافر کو ایبولا وائرس کے شبے میں ایئرپورٹ سے ہپستال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کی سکریننگ کی جائے گی۔

شہر کے سب سے بڑے سرکاری جناح ہپستال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مسافر لائبیریا سے قطر ایئرویز کے ذریعے کراچی ایئرپورٹ پہنچا تھا، جہاں سے اس کو پیر کی صبح جناح ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مسافر کو 103 سینٹی گریڈ بخار ہے اور اسے ہپستال میں آئسولیشن وائرڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ہارون نامی یہ مسافر کراچی کا رہائشی ہے اور لائیبریا میں کام کرتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے یاد نہیں ہے کہ اس کا کسی ایبولا کے مریض سے دور دور کا بھی واسطہ پڑا ہو۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال زیادہ تشویش کا شکار نہیں ہیں، لیکن انھوں نے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں۔

ایبولا کا مشتبہ مریض پیر کی صبح ایئر پورٹ پر اترا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایبولا کا مشتبہ مریض پیر کی صبح ایئر پورٹ پر اترا تھا

ادارہ اسلام آباد سے اپنی ایک ٹیم کراچی بھیج رہا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک مریض سے خون کا نمونہ نہیں لیا اور یہ صرف اسی وقت کیا جائے گا جب تمام حفاظتی تدابیر مکمل ہو جائیں۔ اس کے بعد نمونہ امریکی شہر اٹلانٹا بھیجا جائے گا جس میں تین چار دن لگیں گے۔

ایبولا انسانوں میں خون کے براہ راست تعلق، جسمانی رطوبتوں اور بالواسطہ طور پر آلودہ فضا سے پھیلتی ہے۔

اس بیماری کا مرکز مغربی افریقہ ہے۔ صحت کے عالمی ادارے ڈبليوایچ او کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے روایتی طریقے جن میں متاثرہ شخص کے ساتھ جسمانی تعلق سے پرہیز یا حفاظتی آلات پہننا شامل ہیں، لائبیریا میں کارآمد ثابت نہیں ہو رہے۔

فی الحال معلوم نہیں ہے کہ جانچ کی رپورٹ کتنے دنوں میں آئے گی
،تصویر کا کیپشنفی الحال معلوم نہیں ہے کہ جانچ کی رپورٹ کتنے دنوں میں آئے گی

ڈبلیو ایچ او پاکستان حکومت کو ایبولا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کر چکا ہے، جس کے بعد پاکستان کے صدر ممنون حسین نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ کر ملک کے تمام انٹری پوائنٹس پر حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا حکم دیا ہے اور ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بارڈر انٹری پوائنٹس پر سکریننگ اور قرنطینہ کا نظام لگانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

صدر مملکت نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبے ایبولا وائرس کی ادویات وافر مقدار میں سٹاک کریں اور ہسپتالوں میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وارڈ بھی مخصوص کیے جائیں۔