ایبولا کے پھیلاؤ کا خطرہ برقرار ہے: اقوامِ متحدہ

تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ابھی بھی 200 سے 300 افراد ہر ہفتے ہلاک ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنتازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ابھی بھی 200 سے 300 افراد ہر ہفتے ہلاک ہو رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس مہلک وائرس کا دنیا کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کا خطرہ ابھی تک برقرار ہے۔

مشن کے سربراہ اینتھونی بین بری نے اس بات پر کچھ کہنے سے انکار کیا کہ انھوں نے ایبولا کے خلاف جنگ کے جو اہداف طے کیے تھے ان میں پیر تک کے لیے طے کی جانے والی ڈیڈ لائن پوری ہوئی یا نہیں۔

ان اہداف میں ایبولا کا علاج کیے جانے والے لوگوں اور اس سے مرنے والوں کی محفوظ تدفین شامل ہیں۔

بین بری نے اکتوبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا تھا ’اگر ایبولا کا پھیلاؤ روکنا ہے تو دسمبر تک ایبولا سے متاثر 70 فی صد لوگوں کا علاج ضروری ہے اور اس سے مرنے والے 70 فی صد لوگوں کی محفوظ تدفین ہوجانی ضروری ہے۔‘

بین بری کا کہنا ہے کہ ہمارے فوری اہداف میں علاج کے مراکز قائم کرنا اور محفوظ تدفین فراہم کرنا شامل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبین بری کا کہنا ہے کہ ہمارے فوری اہداف میں علاج کے مراکز قائم کرنا اور محفوظ تدفین فراہم کرنا شامل ہے

یہ عبوری ہدف اس لیے طے کیا گیا تھا کہ ایبولا سے متاثرہ اضافے کو روکا جا سکے۔

اقوام متحدہ کا حتمی ہدف ایبولا سے ہونے والی اموات کو صفر تک لانا ہے اور ان اہداف کو گنی، سیئرا لیون اور لائبیریا میں حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اس کے باوجود اینتھونی بین بری نے کہا کہ سیئرالیون کے دارالحکومت سمیت ’ہم اپنے ہدف کے حصول میں پیچھے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ کمی ان شعبوں میں ہیں جہاں ہمیں اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایبولا سے تقریباً 6,000 سے زائد افراد ہلاک اور 16,000 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

تازہ اعدادو شمار کے مطابق ایبولا سے ہر ہفتے ابھی بھی 200 سے 300 افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایبولا سے ہلاکت کو صفر تک لانے کا ہدف رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ نے ایبولا سے ہلاکت کو صفر تک لانے کا ہدف رکھا ہے

بین بری کا کہنا ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ ایبولا کے خلاف مداخلت نہ کرتی تو حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔

انھوں نے کہا ’ ہم نے بحران پر قابو پانے کے لیے علاج کے مراکز قائم کرنے، محفوظ تدفین اور سماجی تعاون کی حکمت عملی اپنائي۔‘

بین بری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اقدامات کے باوجود دنیا میں ابھی بھی ایبولا کے پھیلنے کا ’زبردست خطرہ ہے۔ یہ اس علاقے سے ملحق علاقوں میں پھیل سکتا ہے یاپھر کسی جہاز پر سوار ہوکر یہ ایشیا، لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ اور یورپ جا سکتا ہے اس لیے اسے جس قدر جلد ممکن ہو صفر پر لانا ضروری ہے۔‘