پاکستان: ایبولا سے بچاؤ کی تیاریاں تاحال نامکمل

یہ جاننا زیادہ اہم ہے کہ کوئی مسافر ایبولا سے متاثرہ کسی ملک سے تو نہیں آ رہا
،تصویر کا کیپشنیہ جاننا زیادہ اہم ہے کہ کوئی مسافر ایبولا سے متاثرہ کسی ملک سے تو نہیں آ رہا
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں ایبولا وائرس سے بچاؤ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کا جائزہ مشن اسلام آباد پہنچ گیا ہے لیکن ابھی تک ایبولا سے بچاؤ کی تیاریاں بظاہر مکمل نہیں کی جا سکی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے ایبولا وائرس کو پاکستان میں پھیلنےسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی جو ایک ماہ میں مکمل کیے جانے تھے۔

ان میں تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر خصوصی سکینرز کی تنصیب، عملے کی تربیت اور ہسپتال میں خصوصی ایبولا ’آئسولیشن وارڈ‘ کا قیام وغیرہ شامل ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا خصوصی مشن منگل سے ملک میں ایبولا کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لےگا تاہم وفاقی دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ انتظامات بظاہر اتنے موثر دکھائی نہیں دیتے۔

محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور بہت جلد ایبولا سے دفاع کا موثر نظام تشکیل پا جائے گا۔

عالمی ادارۂ صحت کی ہدایت پر اسلام آباد ایئرپورٹ کے بین الاقوامی آمد لاؤنج میں لگایا جانے والا ’تھرمو سکینر‘ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا اور ایبولا سے متاثرہ مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے خصوصی ایمبولینس بھی ابھی تک فراہم نہیں کی جا سکی ہے۔

ایئرپورٹ پر تعینات عملے کو ایبولا سے متعلق بریفنگز تو دی جا رہی ہیں لیکن عملے کے بعض ارکان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محکمۂ صحت کا ہوائی اڈوں پر نگرانی کا عمل بہت موثر نہیں ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ کے بین الاقوامی آمد لاؤنج میں لگایا جانے والا ’تھرمو سکینر‘ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا
،تصویر کا کیپشناسلام آباد ایئرپورٹ کے بین الاقوامی آمد لاؤنج میں لگایا جانے والا ’تھرمو سکینر‘ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا

بینظیر بھٹو ایئرپورٹ پر تعینات محکمۂ صحت کے افسر ڈاکٹر عرفان طاہر نے اس سکینر کے خراب ہونے کی تصدیق تو کی لیکن ساتھ ہی سکینر کی اہمیت کم کرنے کی کوشش بھی کی۔

انھوں نے کہا: ’عالمی ادارۂ صحت نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ سکینر بہت ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ صرف انسان میں بخار کی نشاندہی کرتا ہے اور اگر کسی مریض نے جہاز میں بخار ختم کرنے کی دوا کھا لی ہے تو یہ سکینر غیر موثر ہو جائے گا۔‘

ڈاکٹر عرفان طاہر نے بتایا کہ ان کے خیال میں بخار ماپنے والے اس سکینر سے زیادہ اہم مسافروں کے پاسپورٹ کے ذریعے ان کے سفر کی تفصیلات معلوم کرنا ہے۔

ان کے بقول یہ جاننا زیادہ اہم ہے کہ کوئی مسافر ایبولا سے متاثرہ کسی ملک سے تو نہیں آ رہا۔

’امیگریشن کے عملے کو تربیت دی گئی ہے کہ وہ پاسپورٹ کے ذریعے کسی بھی مشکوک مسافر کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں کہ وہ حالیہ دنوں میں ایبولا سے متاثرہ افریقی ملک سے گزر کر پاکستان تو نہیں آ رہا۔‘

انھوں نے بتایا کہ محکمۂ صحت اور بعض دیگر اداروں نے ایبولا کے لیے مخصوص ایمبولینس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جو بہت جلد بینظیر بھٹو سمیت ملک کے مختلف ہوائی اڈوں پر دستیاب ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ہوائی اڈے پر موجود سرکاری ایمبولینس ہی کو ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

راولپنڈی کا بینظیر بھٹو ہسپتال اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے قریب ترین ہے تاہم اس کے بجائے ایبولا کے ممکنہ مریضوں کو اسلام آباد کے پِمز ہسپتال لایا جائے گا۔

اس کی وجہ محکمۂ صحت کے عملے کے مطابق راولپنڈی میں قائم بینظیر بھٹو ہسپتال کے قریب تعمیراتی کام ہے۔

تاہم پمز ہسپتال میں بھی ایبولا کے مشتبہ مریض کو وصول کرنے کی کوئی تیاری دکھائی نہیں دیتی۔

ہسپتال میں ایک ’آئسولیشن وارڈ‘ پہلے سے موجود تو ہے لیکن عالمی ادارۂ صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق کسی کمرے یا وارڈ کو ایبولا کے ممکنہ مریضوں کے لیے مختص یا تیار نہیں کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پمز ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ تو موجود ہے لیکن وہاں ڈینگی کے مریض موجود ہیں
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں پمز ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ تو موجود ہے لیکن وہاں ڈینگی کے مریض موجود ہیں

اس آئسولیشن وارڈ میں ڈینگی اور دیگر بیماریوں سے متاثرہ مریض تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن یہاں پر بھی عام آمدورفت کم کرنے یا منھ ڈھانپنے کے لیے ماسک وغیر دستیاب نہیں ہیں۔

ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے اس بارے میں بی بی سی کے سوال کے جواب میں کہا کہ عملے کو ایبولا کے مریض کی دیکھ بھال کے لیے تربیت دی جا چکی ہے۔

’ایبولا کے مریض کو بھی ویسے ہی دیگر مریضوں سے الگ رکھا جاتا ہے جیسے ڈینگی بخار یا دیگر مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔ ایبولا کے لیےکسی بھی ہسپتال میں وارڈ تعمیر نہیں کیا جاتا۔‘

ڈاکٹر خواجہ نے بتایا کہ ان کی تیاریاں مکمل ہیں اور وہ ایبولا کے مشتبہ مریض کو کسی بھی وقت وصول کر کے اس کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔