پاکستان میں ایبولا وائرس سے بچنے کے ہنگامی اقدامات

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ملک میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
صدر ممنون حسین نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو خط لکھا ہے جس میں ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں استفسار کیا ہے اور رپورٹ طلب کی ہے۔
صدر مملکت نے ملک کے تمام انٹری پوائنٹس پر حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا حکم دیا ہے اور ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور باڈر انٹری پوائنٹس پر سکریننگ اور قرنطینہ کا نظام لگانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
صدر مملکت نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبے ایبولا وائرس کی ادویات وافر مقدار میں سٹاک کریں اور ہسپتالوں میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وارڈ بھی مخصوص کیا جائے۔
ایبولا نامی یہ بیماری انسانوں میں براہِ راست طور پر خون کے براہ راست تعلق، جسمانی رطوبت یا اعضا سے، اور بالواسطہ طور پر آلودہ فضا سے پھیلتی ہے۔
ڈبليوایچ او کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے روایتی طریقے جن میں متاثرہ شخص کے ساتھ جسمانی تعلق سے پرہیز یا حفاظتی آلات پہننا لائبیریا میں کار آمد ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک اہلکار جو کہ ایبولا وائرس سے بچاؤ کے لیے طبی عملے میں شامل تھے، اسی وائرس سے متاثر ہونے کے بعد جرمنی میں دوران نگہداشت ہلاک ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایبولا وائرس سے متاثرہ چار ہزار چار سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کی بڑی تعداد کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے۔ ایبولا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں سال نومبر تک ایبولا وائرس کے متاثرین کی تعداد بیس ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔ اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں گنی، سیرالیون اور لائبیریا شامل ہیں۔
19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔ صحت سے متعلق امریکی ایجنسی کے مطابق اگر وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات تیز نہیں کیے گئے تو آئندہ سال جنوری تک متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔







