ایبولا پر تین ماہ میں قابو پایا جا سکتا ہے: اقوامِ متحدہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اقوامِ متحدہ کے ایبولا کے بارے میں خصوصی ایلچی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس وبا پر تین ماہ کے اندر اندر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ڈیوڈ نیبارو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ایبولا کے مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے، لیکن زیادہ بہتر معاشرتی آگاہی کی مدد سے اس مرض کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
STY35211715’ایبولا ایڈز کے بعد سب سے بڑا چیلنج ہے‘’ایبولا ایڈز کے بعد سب سے بڑا چیلنج ہے‘امریکی محکمہ صحت کے اعلیٰ ترین افسر ٹامس فریڈن کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی یا ایڈز کی بیماری کے بعد مغربی افریقہ میں پھوٹنے والی بیماری ایبولا سب سے بڑا چیلنج ہے۔2014-10-09T18:37:40+05:002014-10-09T19:02:28+05:002014-10-09T19:02:28+05:002014-10-09T19:02:28+05:00PUBLISHEDurtopcat2
انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اب یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی منتقلی کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ متاثرہ مریضوں کو الگ تھلگ کر دیا جائے۔
تاحال ایبولا کے 8300 مصدقہ کیس سامنے آئے ہیں جب کہ کم از کم 4033 افراد اس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان میں سے 4024 ہلاکتیں مغربی افریقی ملکوں گنی، لائبیریا اور سیئرالیون میں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ نائجیریا، سینیگال، سپین اور امریکہ میں بھی اس مرض کے کیس درج کیے گئے ہیں۔
ڈیوڈ نیبارو نے کہا کہ نئے کیسوں کی تعداد ’خوفناک‘ ہے، اور مرض کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابتدا میں بہت سے مغربی افریقی لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ مرض متعدی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ اب لوگوں کی بہتر شرکت ہو رہی ہے جس سے مجھے امید ہے کہ اگلے تین ماہ میں قابو پانے کے لیے تین ماہ کا عرصہ ایک مناسب ہدف ہے۔
’قابو پانے سے میری مراد یہ ہے کہ ہر ہفتے نئے مریضوں کی تعداد گذشتہ ہفتے کے مقابلے پر کم ہوتی جائے، حتیٰ کہ نئی منتقلیاں ختم ہو جائیں۔‘
ایبولا وائرس متاثرہ شخص یا جانور کی جسمانی رطوبتوں سے براہِ راست رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔
اسی دوران امریکہ میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہفتے کے دن سے نیویارک کے جے ایف کے ہوائی اڈے پر لائبیریا، سیئرالیون اور گنی سے آنے والے مریضوں کی سکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے امریکی ریاست ٹیکسس میں ایک شخص ایبولا کا شکار بن گیا تھا۔







