’برطانیہ میں ایبولا کے چند کیس سامنے آ سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ کے چیف میڈیکل افسر کا کہنا ہے کہ وہاں خطرناک وائرس ایبولا کے چند کیس سامنے آسکتے ہیں۔
ملک کے اہم ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے میڈیکل افسر ڈیم سیلی ڈیویز نے کہا کہ یہ ’سخت طریقہ‘ ضرور ہے لیکن اس سے جانیں بچیں گی۔
انھوں نے ان نکتہ چینیوں کی تردید کی ہے جو ایک ای میل کے افشا ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ یہ ای میل ڈاکٹروں میں تقسیم کی گئی تھی اور اس میں سکریننگ کو ’سیاسی رویہ‘ بتایا گیا تھا۔
امریکہ میں اپنے يہاں آنے والوں کی جانچ شروع ہونے کے بعد اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے برطانیہ میں بھی سکریننگ کی مشق کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ ایبولا کی وجہ سے اب تک 4000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے ایک طبی ماہر کا کہنا ہے کہ ’اگر عالمی سطح پر اس وائرس کو روکنے کے لیے قدم نہیں اٹھایا گیا تو یہ دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہنے والا ہے۔‘
برطانوی حکومت کی طبی مشیر ڈیم سیلی نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والا ایسا کوئی کیس مغربی افریقہ سے نکلا ہوا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
انھوں نے کہا کہ اگر ایبولا کے کیس ہوں بھی تو سکریننگ میں اس کے بہت زیادہ سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا ’بہت بڑا فائدہ‘ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں ہوشیار ہو جائیں گے کہ کن علامات پر نظر رکھنی ہے اور اگر وہ بیمار پڑ جاتے ہیں تو کیا کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے ان کے مرنے اور دوسروں تک اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات کم ہو جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ ہیتھرو، گیٹ وک ایئرپورٹوں اور یوروسٹار ٹرمینل پر آنے والے ہفتے سے ایبولا کی سکریننگ شروع ہو رہی ہے۔ اس میں مسافر کے گذشتہ سفر کی تفصیلات اور ممکنہ طبی تجزیے شامل ہوں گے۔
برطانیہ کے صحت کے محکمے نے کہا کہ مزید تفصیلات آئندہ ہفتے اس پر عمل درآمد سے قبل جاری کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ اسی طرح کے طریقۂ کار کا استعمال امریکہ میں نیویارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ پر کیا جارہا ہے اور آنے والے دنوں میں بعض دوسرے ہوائی اڈوں پر بھی اس قسم کی جانچ کا آغاز ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
افشا شدہ ای میل، جسے بی بی سی نے دیکھا ہے، اس میں اس پروگرام میں شامل ایک اہلکار نے لکھا ہے کہ ’یہ سکریننگ پوری طرح سے سیاسی ہے اور اس سے صحت عامہ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔‘
بی بی سی کی سیاسی نامہ نگار کیرول واکر کا کہنا ہے کہ انھوں ایک دوسرے کنسلٹنٹ سے بات کی جنھوں نے کہا کہ جو برطانیہ میں داخل ہو رہا ہے کیا کبھی وہ ایماندارانہ طور پر نہیں کہے گا کہ وہ ایبولا کے کسی مریض سے رابطے میں آیا تھا۔
انھوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جو طبی عملہ اس سکریننگ میں شامل ہو رہا ہے انھیں حفاظتی کپڑے نہیں دیے جا رہے ہیں:
’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ انھیں اندازہ ہے کہ انھیں ایبولا سے متاثرہ کوئی شخص نہیں ملے گا یا پھر وہ متاثرہ افراد کا بغیر کسی حفاظتی بندوبست کے سامنا کریں گے۔‘







