امریکہ کے ہوائی اڈوں پر ایبولا کی سکریننگ

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی شہر نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے نے ایبولا کی وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مسافروں پر سکریننگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ایبولا سے اب تک 4000 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
لائبیریا، سیرالیون اور گنی جیسے زیادہ متاثر ممالک سے امریکہ پہنچنے والے مسافروں کے درجہ حرارت لیے جائیں گے اور سوالات پوچھے جائیں گے۔
آنے والے دنوں میں شکاگو کے اوہئر، نیویارک کے نیو ارک ، واشنگٹن کے ڈلاس اور اٹلانٹا کے ایئرپورٹس میں یہ معائنے شروع کیے جائیں گے۔
یہ اقدمات اس لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ امریکہ میں ایبولا کی پہلی ہلاکت گزشتہ بدھ کو پیش آئی تھی۔
ٹھامس ڈنکن نے لائبیریا سے امریکہ کا سفر کیا تھا، لیکن ان کی تشخیص ڈلاس پہنچنے کے بعد ہی کی گئی۔
عالمی ادارہ صحت سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایبولا کی ہلاکتوں کی تعداد اب 4033 ہو چکی ہے۔
اموات کی اکثریت، جو 4024 ہیں، لائبیریا، سیرالیون اور گنی کے مغربی افریقی ممالک میں سے تھیں۔
جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ میں سکریننگ کے یہ اقدامات ہفتے کے روز سے لیے جا رہے ہیں۔ ایئر پورٹ پر تعینات عملہ ایبولا کی علامات معلوم کرنے کے لیے مسافروں کے درجہ حرارت لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہv
ان تین افریقی ممالک سے آنے والے مسافروں سے ان کے امریکہ آنے سے پہلے کے سفر کی تاریخ کے بارے میں پوچھا جائے گا اور یہ بھی کہ اگر افریقہ میں ان کا رابطہ ایبولا سے متاثر کسی بھی شخص سے تھا۔
ان سوالوں میں سے اگر انھوں نے کسی کا جواب ’ہاں‘ میں دیا یا اگر انھیں بخار ہوا، تو ’سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی تنظیم ان کا طبی معائنہ کرے گی۔
فی الحال امریکہ میں ان تین ممالک سے کوئی براہ راست پروازیں نہیں آ رہیں۔ زیادہ تر افریقہ سے امریکہ آنے والی پروازیں یورپ کے ذریعے آتی ہیں۔
سیرالیون، گنی اور لائبیریا سے آنے والے مسافروں کی ایبولا کی علامت کے حوالے سے سکریننگ پہلے سے ہی ان کے ممالک کے ہوائی اڈوں میں ہو رہی ہے۔
ٹھامس ڈنکن کے کیس میں اگر ان کی سکریننگ امریکہ میں پہنچنے کی بعد بھی ہوتی تو ایبولا کی تشخیص کا نہ پتا چلتا کیونکہ ان کے امریکہ میں آنے کے ایک ہفتے بعد ہی ان میں ایبولا کی علامت نظر آئے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا کی علامات ایک شخص میں تین ہفتے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
امریکہ میں آنے والے مسافروں میں سے نوے فیصد مسافر جان ایف کینیڈی اور چار دیگر ہوائی اڈوں کے ذریعے آتے ہیں۔ اور ایبولا کے متاثر ممالک میں سے کم از کم 160 افراد روز امریکہ کا سفر کرتے ہیں۔







