ایبولا کی مریضہ کے کتے کو موت کی نیند سلانے پر احتجاج

،تصویر کا ذریعہ
سپین میں محکمۂ صحت کے حکام کی طرف سے ایبولا کی شکار ایک ہسپانوی نرس کے پالتو کتے کو موت کی نیند سلانے پر جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے احتجاج کیا ہے۔
جب پولیس ایبولا کی شکار ٹیریسا رومیرو نامی نرس کے گھر سے ان کا پالتو کتا لینے کے لیے پہنچی تو ان کے اور وہاں موجود جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔
ٹیریسا رومیر مغربی افریقہ سے باہر پہلی فرد ہیں جنھیں یہ وائرس کسی دوسرے مریض سے منتقل ہوا ہے۔ انھوں نے میڈرڈ میں ان دو ہسپانوی مشنریز کا علاج کیا تھا جو ایبولا کی وجہ سے مر گئے تھے۔
رومیرو کے پالتو کتے ’ایکس کیلیبر‘ کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ایبولا سے متاثر ہوا تھا یا نہیں اور آیا وہ اس بیماری کو پھیلانے کا باعث بن سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود عدالت نے منگل کو اسے بغیر تکلیف کے ہلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
بدھ کو جانوروں کے حقوق کے تقریباً 50 کارکن رومیرو کے گھر کے سامنے جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی:’قاتل، قاتل۔‘
مقامی اخبار کے مطابق اس وقت دو کارکن زخمی ہوئے جب انھوں نے اس گاڑی کو روکنے کی کوشش کی جس میں کتے کو لے جایا جا رہا تھا۔
رمیرو کے شوہر نے جب کتے کے کیس کے بارے میں جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کو خبردار کیا تو اس پر سوشل میڈیا پر ہل چل مچ گئی اور لوگوں نے اس کیس میں کافی دلچسپی لی۔
خیال رہے کہ ٹریسا کو میڈرڈ میں علیحدہ رکھا گیا ہے جبکہ ان کے شوہر سمیت 50 دیگر افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایبولا کی حالیہ وبا کے دوران اب تک 3879 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ان میں زیادہ تر ہلاکتیں سیئرا لیون، گنی اور لائبیریا میں ہوئی ہیں۔







