ایبولا متاثرہ ممالک میں پھیل رہا ہے: ڈبلیو ایچ او

ابیولا سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3860 ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنابیولا سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3860 ہے

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا اب سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے دارالحکومتوں میں جڑیں پکڑ گیا ہے اور یہ ہر قسم کے حالات میں پھیل رہا ہے۔

مغربی افریقہ میں ایبولا سے سب سے زیادہ متاثر مملک میں گنی، سیئرا لیون اور لائبیریا شامل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے نائب سربراہ آئلوارد نے خبردار کیا کہ ان ممالک میں ایبولا سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ردِ عمل بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے مطابق نہیں ہے۔

ان تینوں ممالک نے ایبولا سے نمٹنے کے مزید امداد کی اپیل کی ہے۔

ابیولا سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3860 ہے جن میں اکثریت کا تعلق مغربی افریقی ممالک سے ہے۔ ایبولا کے متاثرین میں 200 سے زیادہ طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔

آئلوارد نے جمعرات کو بات کرتے ہوئے کہا کہ 12 دن پہلے کے مقابلے میں اب صورتِحال ابتر ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دارالحکومتوں میں یہ بیماری جڑیں پکڑ گئی ہے، متاثرین میں سے 70 فیصد یقیناً اس بیماری کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ یہ بیماری ہر قسم کے حالات میں پھیل رہی ہے۔‘

ایبولا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر تقسیم ہو کر پورے جسم میں پھیل جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایبولا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر تقسیم ہو کر پورے جسم میں پھیل جاتا ہے

دریں اثنا سپین میں سات مزید افراد کو ابیولا سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر ہسپتال میں زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔ ان میں دو حجام بھی شامل ہیں جو میڈرڈ میں ابیولا کی شکار نرس رومیرو کے ساتھ رابطے میں رہے تھے۔

رومیرو نے مغربی افریقہ سے منتقل کیے گئے ایبولا کے شکار دو مشنریوں کی تیمارداری کی تھی۔ یہ مشنری بعد میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ رومیرو بھی ابیولا کا شکار ہو گئیں۔

دریں اثنا امریکی محکمہ صحت کے اعلیٰ ترین افسر ٹامس فریڈن کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی یا ایڈز کی بیماری کے بعد مغربی افریقہ میں پھوٹنے والی بیماری ایبولا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے ڈائریکٹر ٹامس فریڈن نے کہا کہ عالمی برادری کو اس بیماری پر قابو پانے کے لیے جلد اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ یہ بیماری ایڈز کی طرح نہ پھیل جائے۔

فریڈن کا کہنا تھا: ’میں گذشتہ 30 سال سے طب کے شعبے سے وابستہ ہوں اور اس عرصے میں اتنی سنگین صورتحال میں نے صرف ایڈز کے پھیلاؤ کے وقت دیکھی تھی۔‘

لائبیریا کے دارالحکومت مونروویا میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایبولا کے مرض میں مبتلا ایک اور ڈاکٹر مقامی ملک کے سب سے بڑے ہسپتال میں چل بسا۔

اس ڈاکٹر کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ جان ٹبن دادا لائبیریا کے سب سے بڑے ہسپتال جان ایف کینیڈی میموریل ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔

جان کی ہلاکت سے ایبولا سے مرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔